فیملی انٹروینشن ۔۔۔ جب وہ مانتا نہیں!


اہل خانہ اور ماہرین مل کر مریض کی فلاح کیلئے جو اقدامات کرتے ہیں انہیں انٹروینشن کا نام دیا جاتا ہے۔ انٹروینشن کے ذریعے مریض کے علاج کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ مریض باآواز بلند مدد نہیں مانگتا لیکن اس کی تلخی دراصل مدد کی پکار ہوتی ہے۔ اس پکار میں چھپی ہوئی بے آواز چیخیں آپ نہیں سن پاتے۔

اگر اہل خانہ بیماری کے نتائج اور حالات قابل قبول انداز میں مریض کے سامنے پیش کریں تواس کی آمادگی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں جب مریض نشے میں مدہوش ہونے کے باعث اپنے لئے کوئی بہتر فیصلہ نہیں کر سکتا، اہل خانہ اجتماعی طور پرانٹروینشن کے ذریعے اسے علاج پر مائل کر سکتے ہیں۔ نشے کے مریض کی زندگی میں انٹروینشن ایک ایسا کام ہے جس میں لڑائی جھگڑے کا کوئی مقام نہیں۔ یہ ایک ایسا بامعنی منصوبہ ہے جس کیلئے باقاعدہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔

انٹروینشن وہ طریقہ کار ہے جس میں اہل خانہ اور دوست احباب مل کر ماہر کی راہنمائی میں مریض سے ملاقات کرتے ہیں۔ اس ملاقات میں وہ مریض کے سامنے نشے سے پیدا ہونے والے مسائل کی منظر کشی خوبصورتی اور ملائمت سے کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ مریض خود فریبی میں سے نکل کر حالات کی اصل تصویر دیکھ لیتا ہے۔ حالات کی اصل تصویر دیکھنے کے بعد کوئی مریض بھی زیادہ دیر تک علاج کو رد نہیں کر سکتا۔

ضروری نہیں کہ مریض علاج سے پہلے آمادہ ہو۔ ہاں! یہ ضروری ہے کہ اہل خانہ میں سے کوئی مریض کیلئے وہ فیصلہ کرے جو خود مریض نہیں کر سکتا۔ انتظار کی کوئی ضرورت نہیں۔ انٹروینشن کا بیڑا عام طور پر گھر کا کوئی ایسا شخص اُٹھاتا ہے جو مریض کی جان بچانے کیلئے ذاتی نفع و نقصان کی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ وہ شخص نشے کی بیماری میں پوشیدہ حقیقی خطرات کو پہچان لیتا ہے۔

اہل خانہ تنہا تنہا مریض سے بات کریں تو مریض اپنے بارے میں بیان کئے گئے حقائق کو جھٹلاتا ہے۔ ریسرچ کی بدولت اب مل جل کر حقائق کو ایسے انداز میں مریض کے سامنے پیش کرنا ممکن ہو گیا ہے کہ وہ انہیں جھٹلا نہ سکے۔ انٹروینشن کے دوران جب مریض یہ جان لیتا ہے کہ اہل خانہ مجھے تکلیف نہیں دینا چاہتے بلکہ میرا دُکھ دور کرنا چاہتے ہیں تو وہ تعاون پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

اہل خانہ ’’انٹروینشن‘‘ میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ انہیں فکر ہوتی ہے کہ مریض سے تعلقات نہ بگڑ جائیں حالانکہ تعلقات پہلے ہی بگڑ چکے ہوتے ہیں۔ انہیں مریض کی طرف سے جھگڑے یا نقصان کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔ بیماری کو سمجھنے کے بعد یہ خیالات بدل جاتے ہیں۔ انٹروینشن سے پہلے اہل خانہ سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں اور مریض کے شب و روز میں سے ایسے واقعات تلاش کرتے ہیں جن کا تعلق نشے کے استعمال سے ہو اور جہاں نشے کے نتیجے میں مریض یا اہل خانہ کو شرمندگی، نقصان، خطرے یا تباہی کا سامنا ہوا ہو۔

اگلا صفحہ

 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,