پہلی ملاقات


مریض کا کلینک میں داخل ہو جانے کے بعد اپنی فیملی سے ہونے والی ابتدائی ملاقات کو پہلی ملاقات کہا جاتا ہے۔ فیملی اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ مریض کی فلاح و بہبود کے لیے اہم فیصلے کرتے ہیں اور اپنی رٹ قائم کرتے ہیں جس سے بامقصد علاج کی راہ ہم وار ہوتی ہے۔ پہلی ملاقات کا مقصد فیملی کی جذباتی ضروریات کو پورا کرنا ہے، اس دوران ان کی توجہ ٹریننگ پر مرکوز رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے جس کے ذریعے علاج کو ٹریک پر لے جایا جا سکتا ہے۔

پہلی ملاقات کا دورانیہ طے شدہ ہوتا ہے جو کہ پانچ منٹ تک کا ہے اور کاؤنسلر اور سائیکالوجسٹ ملاقاتی کو پیشگی بتاتا ہے کہ میٹنگ مقررہ وقت پر ختم کر دی جائے اس موقع پر جب مریض یہ دیکھتا ہے کہ فیملی کاؤنسلر اور سائیکالوجسٹ کی بات مان رہی ہے تو وہ خود بھی کاؤنسلر اور سائیکالوجسٹ کی بات ماننے لگتا ہے۔ پہلی ملاقات میں فیملی کو مریض کے منفی رویوں پر غصہ اور بات بات پر صفائی دینے سے منع کیا جاتا ہے اور ایسی صورت میں فیملی کو پہلی ملاقات ختم کر دینے کو کہا جاتا ہے۔ اگر مریض فیملی سے بدتمیزی جاری رکھے تو پہلی ملاقات کا سلسہ روکا بھی جا سکتا ہے تا کہ مریض کو اپنی غلطی کا احساس ہو سکے۔

پہلی ملاقات میں کاؤنسلر اور سائیکالوجسٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اہلِ خانہ کو مریض کی کڑوی اور تلخ باتوں کے خلاف تحفظ دیں اور ان کو پہلے سے ہی گائیڈ کر دیں کہ ایسے واقعات بھی رونما ہو سکتے ہیں۔ کاؤنسلر میٹنگ کے دوران اپنا یا علاج گاہ کا دفاع نہیں کرتا بلکہ خاموش رہتا ہے اور اس وقت بات کرتا ہے جب ملاقات ختم ہو جاتی ہے۔ اگر فیملی دوران علاج اپنے رٹ پر قائم نہیں رہتی یا جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتی تو وہ بہت جلد ہی مریض کی باتوں میں آ جاتے ہیں جس کی وجہ سے علاج خراب ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,