گروپ تھراپی


نشہ بازی کے علاج میں گروپ تھراپی کا علاج بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ گروپ میں ایک درجن مریضوں کے درمیان گفت و شنید آئینہ دکھانے کا کام کرتی ہے۔ وہ ایک دوسرے میں اپنے حالات کی تصویر دیکھتے ہیں۔ گروپ تھراپی میں کونسلر اینکر پرسن کا کردار انجام دیتا ہے۔ ایک تجربہ کار کونسلر اچھی طرح جانتا ہے مریض کی خود فریبی کا جال کیسے توڑنا ہے؟ گروپ تھراپی سارے علاج میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

دوران علاج تمام نشے کے مریضوں میں دو چیزیں یکساں طور پر دیکھنے میں آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ نشہ چھوڑنے کی زبردست کوششیں کر چکے ہوتے ہیں۔ دوئم یہ کہ وہ سب اس میں ناکام ہو چکے ہوتے ہیں اُن کی ناکامی کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ حقیقت کو نہیں دیکھ پاتے ان حالات میں گروپ تھراپی کا علاج خاص اہمیت رکھتا ہے۔ گروپ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مریض واہمے سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں آ جائے۔ سب کو نشے کی وجہ سے ایسے مسائل پیش آتے ہیں جن کے سامنے وہ اور اُن کے لواحقین بے بس ہوتے ہیں۔ گروپ میں مریض نشے سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے تجربات کی روشنی میں خود کو پہچانتے ہیں۔ گروپ میں وہ اپنی ذات میں تبدیلی لانے کا عمل شروع کرتے ہیں۔ جس سے آہستہ آہستہ وہ اپنے مرض کو پہچاننے کے قابل ہو جاتے ہیں اور کھل کر مان لیتے ہیں کہ وہ نشے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ وہ نشے کے مرض سے لڑنے کا ہنر سیکھتے ہیں اور ذمہ دار انسان بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ واضح طور پر جان لیتے ہیں کہ نشے سے ہمیشہ کیلئے چھٹکارا ہی اس مرض سے نجات کا واحد حل ہے۔ ان کی زندگی میں اعتماد حوصلے اور امید کی شمعیں روشن ہو جاتی ہیں۔ غصے، پچھتاوے اور مایوسی کے بادل چھٹ جاتے ہیں۔ نفسیاتی علاج کا پہلا حصہ تو یہ ہے کہ مریض کو نشے کی بیماری پر اتنا سائنٹفک علم دیا جائے کہ وہ تسلیم کرنے لگے کہ ’’ہاں! میں کبھی محفوظ طریقے سے نشہ نہیں کر سکوں گا، کیوں کہ میرے جسم میں ایک ایسی مستقل تبدیلی آ چکی ہے جو نشے کے استعمال کو رد کرتی ہے، جبکہ میرے دماغ میں ایسی سوچ رچ بس گئی ہے جو مجھے نشے کا استعمال کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں بربادی جنم لیتی ہے۔ مزید یہ کہ میں جب بھی نشہ کرو ں گا مجھے سکھ نہیں بلکہ دکھ ملیں گے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی مریض یہ سمجھ لیتا ہے کہ جس طرح وہ کنٹرول سے نشہ نہیں کر سکتا اسی طرح وہ محض قوت ارادی اور کنٹرول سے نشہ چھوڑ بھی نہیں سکتا۔ نشہ چھوڑنے کیلئے اسے طرزِ زندگی اور نظریات میں ایک اور بڑی تبدیلی لانا ہو گی۔ یہ حقائق جاننے کے بعد ہی نشے سے نجات کا دروازہ کھلتا ہے کیونکہ مریض اپنے علاج میں حقیقی دلچسپی لینے لگتا ہے۔ مریض کی نشہ بازی کا تسلسل اس عقیدے کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ نشے کے بغیر اس کی زندگی نامکمل ہے اور اس کا سکھ، چین، آرام اور نیند نشے سے وابستہ ہے۔ حقائق سے روشناس ہونے کے بعد کوئی بھی انسان پہلے جیسا نہیں رہتا۔ جب مریض نشہ ترک کرنے کی ضرورت کا احساس کر لیتا ہے تو وہ بدلنے پرآمادہ ہو جاتا ہے۔ پھراسے قدم بہ قدم بحالی کی راہ دکھائی جاتی ہے۔ نشے سے نجات کیلئے ضروری ہے کہ مریض میں ایک عظیم قسم کی نظریاتی تبدیلی آ جائے۔ اس کا فلسفہ حیات بدل جائے۔ اگر اُس کی فلاسفی اور طرز زندگی پہلے جیسا رہے اور وہ نشے سے بحال رہنا چاہے تو یہ دونوں کا م ساتھ ساتھ نہیں ہو سکتے۔ بحالی انقلاب چاہتی ہے۔

دوران علاج گروپ تھراپی میں مریضوں کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ نشے سے بحالی کے پروگرام کا تعارف بھی کرایا جاتا ہے، یہ بارہ قدموں کا پروگرام پچھلے 80 سال سے دنیا بھرمیں رائج ہے اور معیاری علاج گاہوں میں اس پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اس میں نشے سے بحالی کے بارہ قدم اور نشے سے بچاؤ کی منصوبہ بندی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,