علاج..... کیا ؟ کیوں؟ کیسے؟


نشے کا مریض عام طور پر نشے کے ’’کیرئیر‘‘ میں کئی مراحل سے گزرتا ہے۔ پہلے وہ کبھی کبھار نشہ کرتا ہے بعد ازاں وہ اندھا دھند نشہ کرنا اور برباد ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر چاروں طرف سے نکتہ چینی کا سامنا ہوتا ہے تو نشے کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کرتا ہے لیکن ناکام رہتا ہے۔ پھر کبھی مجبورہو کر وقتی طور پر نشہ چھوڑتا ہے اور دوبارہ نشہ کرنے کیلئے مناسب وقت کا انتظار کرتا ہے۔ حالات خراب ہونے کے بعد مریض اپنے دوست احباب کی کوششوں، پیشہ ورانہ راہنمائی اور مداخلت کی وجہ سے علاج کرانے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ وہ خود بھی جسمانی تکلیفوں اور مالی و معاشرتی پریشانیوں سے تنگ آ چکا ہوتا ہے۔ علاج کے پہلے مرحلے میں اسے علاج گاہ میں داخل کیا جاتا ہے۔ جہاں اُس کا جسمانی علاج شروع ہوتا ہے تاکہ اسے نشہ چھوڑنے کی تکالیف نہ سہنا پڑیں، ان تکلیفوں کو علامات پسپائی کہا جاتا ہے۔ علامات پسپائی پر قابو پانے میں کوئی خاص دشواری پیش نہیں آتی کیونکہ اب ایسی ادویات موجود ہیں جن کے بروقت استعمال سے ان تکلیفوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ان تکلیفوں کے ازالے سے مریض کے علاج میں آگے بڑھنے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔

نشہ بازی کے علاج میں ’’علامات پسپائی‘‘ پر قابو پانے کے بعد مریض کو گروپ تھراپی میں شامل کیا جاتا ہے جہاں ایک نئے عقیدے کی بنیاد رکھی جاتی ہے جس میں مریض عملی طور پر یہ دیکھتا ہے کہ دراصل نشے کے بغیر ہی زندگی مکمل ہے اور کوئی خلاء باقی نہیں۔ نشہ بازی کا بنیادی علاج اس عقیدے کی طرف سفر ہے۔ یہ سفر اچھے علاج اورگروپ تھراپی کے ذریعے ہی طے ہو سکتا ہے۔ علامات پسپائی پر قابو پانے کے بعد مریض کا اپنے نشے پر جسمانی انحصار تو ختم ہو جاتا ہے تاہم نفسیاتی علاج کے بغیر مریض کے واپس نشے کی دنیا میں لڑھک جانے کے امکانات اب بھی بہت ہوتے ہیں۔ ذہنی دباؤ، ماحول میں نشے کی نشانیاں، یادیں اور پرانے یار دوست مل کر نشے کیلئے شدید طلب پیدا کر سکتے ہیں۔

ریلیپس کا تدارک کرنے کیلئے کونسلنگ کی مختلف قسمیں موجود ہیں تاہم انفرادی کونسلنگ کی نسبت ’’گروپ تھراپی‘‘ بہت مؤثر مانی جاتی ہے، کیونکہ اُن میں مریض کو اپنے زیر علاج ساتھیوں کی نکتہ چینی اور حوصلہ افزائی بیک وقت حاصل ہوتی ہے۔ جس سے ذہن کی گرہیں کھلتی ہیں۔

انفرادی کونسلنگ وہاں زیادہ کامیاب دکھائی دیتی ہے جہاں نشہ بازی کے ساتھ کوئی دوسرا مرض جیسے کہ ڈپریشن، بائی پولر ڈس آڈر یا شیزو فرینییا وغیرہ بھی موجود ہو۔

اہل خانہ کو پہلی ملاقات میں زیاد ہ توقعات وابستہ نہیں کرنا چاہیئیں۔ آپ کو پہلے سے ہی اس شدید ردعمل کی توقع رکھنی چاہیئے۔ پہلی پانچ ملاقاتوں کے بعد مریض پرسکون ہو جاتا ہے۔ ان ابتدائی ملاقاتوں کو ٹچ اینڈ گو میٹنگز کہا جاتا ہے، تاہم ملاقات کے دوران آپ اُس کی شکایات کو سنجیدگی سے سنیں اور وعدہ کریں کہ آپ حقائق تک ضرور پہنچیں اور پھر ایسا ہی کریں کیونکہ بہت سی علاج گاہوں میں مریضوں کی دیکھ بھال اچھی طرح نہیں کی جاتی۔ آپ پوری تسلی کریں لیکن یہ بات آپ کے مدنظر رہنی چاہیئے کہ علاج کے ابتدائی دور میں مریضوں کی خدمت اور علاج کے تقاضے پورے کرتے ہوئے انہیں %100 خوش نہیں کیا جا سکتا۔ دوران علاج آہستہ آہستہ وہ نشے کے بغیر خوش رہنا سیکھ لیتے ہیں وہی مریض جو علاج کے ابتدائی حصے میں منہ سے شعلے نکالتا ہے، علاج کے آخری حصے میں پر سکون ہو جاتا ہے۔ جب مریض کی جسمانی تکلیفیں دور ہو چکی ہوتی ہیں تو اسے نشے کے بغیر زندہ رہنے کے گر سکھائے جاتے ہیں۔ شروع میں مریض جذباتی ہوتا ہے اور باربار علاج سے انکار کرتا ہے۔ اس دوران معالج اور اہل خانہ مل کر اُسے علاج جاری رکھنے پر مائل کرتے ہیں۔

کئی لوگوں کا خیال ہے کہ جو مریض آمادہ ہی نہ ہو اس کیلئے علاج میں کیا رکھا ہے؟ علاج کے ابتدائی حصے میں مریض کی رضا مندی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ابتدائی چند دنوں میں مریض کی تکلیفوں کا علاج کرتے ہوئے معالج کے پاس کافی موقع ہوتا ہے کہ وہ خدمت اورمہارت کے ذریعے مریض کا دل جیت لے۔ نشے کا مریض ذہین انسان ہوتا ہے۔ وہ ہمدردوں کو پہچانتا ہے اور اُن کی قدر کرتا ہے۔ نشے کے مضر اثرات ختم ہونے کے ساتھ ساتھ مریض کے خیالات میں تبدیلی آتی ہے۔ جس اسٹیج پر مریض کی رضا مندی کی ضرورت ہوتی ہے اس سے بہت پہلے مریض مائل ہو چکا ہوتا ہے۔ مؤثر کاؤنسلنگ آہستہ آہستہ مریض کے دل میں گھر کر جاتی ہے اور وہ بدلنے لگتا ہے۔

اگلا صفحہ

 

 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,