علاج..... کیا ؟ کیوں؟ کیسے؟


کاؤنسلنگ اسی طرح انسانوں کے دلوں میں عملی اقدامات کے بیج بوتی ہے، جیسے ٹی وی پر دکھائی جانے والی ایڈورٹائزنگ آخر کار انسانوں کو اقدامات کیلئے پرجوش بناتی ہے۔ ماہرین جانتے ہیں کہ مریض میں تبدیلی کا عمل کیسے برپا کیا جاتا ہے؟

بحرانی انٹروینشن کے دوران ٹیم کا برتاؤ بھی اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ بعد ازاں مریض تعاون کرے گا یا نہیں۔ اگرمریض کو یہ تاثر نہ دیا جائے کہ اسے فتح کیا جا رہا ہے تو مریض نہ صرف بعد میں تعاون کرتا ہے بلکہ دل سے ممنون ہوتا ہے کہ جو فیصلہ میں خود اپنے لئے نہ کر سکا وہ کچھ دردِ دل رکھنے والوں نے میرے لئے کیا۔

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جس مریض کو اُس کی مرضی کے خلاف گھر سے لایا گیا وہی چند دن میں پورے جوش و جذبہ سے بحالی کی منزلیں طے کر رہا ہوتا ہے اور وہ مریض جو خود اپنی مرضی سے ’’توبہ توبہ‘‘ کرتا آیا تھا علاج میں آنے کے 24 گھنٹے بعد ہی حیلے بہانے چھٹی کرنا چاہتا ہے۔ مریض جس مدت کیلئے رضامندی سے کلینک میں آتا ہے اکثر اوقات وہ مدت پوری نہیں کرنا چاہتا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ نشہ کرتے ہوئے مریض کی مرضی کچھ اور ہوتی ہے اور نشہ چھوڑتے ہوئے کچھ اور، ایک ’’حالت‘‘ کا فیصلہ دوسری ’’حالت‘‘ پر لاگو نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جو مریض بحالی کی شمع روشن کئے ہوتے ہیں اُن میں کثیر تعداد اُن مریضوں کی ہے جو شروع میں مرضی کے خلاف گھر سے لائے گئے تھے۔

علامات پسپائی پر قابو پانے کے بعد مریض گروپ تھراپی میں شرکت کرتا ہے اور خود فریبی کے جال میں سے باہر نکلتا ہے(دیکھیے: ڈینائل)۔ انفرادی کونسلنگ اور اہل خانہ کے ساتھ ملاقاتوں میں اسے علاج جاری رکھنے کیلئے تحریک دی جاتی ہے۔ اس مقصد کیلئے اہل خانہ انٹروینشن ڈیٹا پیش کرتے ہیں۔ اہل خانہ معالج سے ٹریننگ پانے کے بعد سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں اور مریض کے شب و روز میں سے ایسے واقعات تلاش کرتے ہیں جن کا تعلق نشے کے استعمال سے ہو اور جہاں نشے کے نتیجے میں مریض یا اہل خانہ کو شرمندگی، نقصان، خطرے یا تباہی کا سامنا ہو، ان نکات کو انٹروینشن ڈیٹا یا مداخلت کے نکات کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مریض کے اندر نشے سے نجات کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔ پھر اسے نشے کی بیماری پر تفصیلی معلومات دی جاتی ہیں۔ اگلے مرحلے میں باقاعدہ تربیت شروع ہوتی ہے۔ روزانہ تین لیکچر ہوتے ہیں جن میں قوتِ ارادی بڑھانے اور نشے کی طلب گھٹانے کیلئے خصوصی تدابیر کی جاتی ہیں اور ساتھ ساتھ نشہ چھوڑنے کی تحریک دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تعلقات عامہ، تفریح، حفظانِ صحت، میاں بیوی میں قربت کے لمحات، مذہبی امور اور روزگار جیسے موضوعات پر خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔

دوران علاج مریض ملاقاتوں میں کبھی کبھی نشے کی طلب کے زیر اثر بے چین ہو جاتا ہے اور اہل خانہ مایوس ہو جاتے ہیں۔ ماضی میں مریض نے بار بار مایوس کیا ہوتا ہے اس لئے علاج کے بعد کوئی بھی یہ یقین کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا کہ مریض نشے کے بغیر رہ سکتا ہے۔ جب بھی مریض اپنے ’’نیک‘‘ ارادوں کا اظہار کرتا ہے اردگرد کے لوگ مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر زبان سے فتویٰ نہ دیں تو جسم کی زبان سے یا طنزیہ انداز میں مسکرا کر حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ نشہ چھوڑنے کے سالوں بعد تک بھی لوگ یہی ’’آس‘‘ لگائے ہوتے ہیں کہ مریض دوبارہ نشے میں پڑے گا اور اگر وہ واقعی نشے میں گرجائے تو کہتے ہیں’’دیکھا! میں نے پہلے ہی نہیں کہا تھا کہ یہ نشہ نہیں چھوڑ سکتا‘‘۔

لوگوں کو نجانے جج اور نجومی بننے کا شوق کیوں ہوتا ہے۔ مریض کو آزمائشیں دیتے ہیں انگلی نچا نچا کر ڈیڈ لائن دیتے ہیں’’پہلے تم ثابت کرو کہ ۔۔۔۔‘‘ ایسا رویہ صرف پولیس، مجسٹریٹ یا جج صاحبان کا ہو تو سجتا ہے۔ اگر مریض نیک ارادوں کا اظہار کرے تو آپ ایک فقرہ ہمیشہ کہہ سکتے ہیں ’’اللہ تمہیں توفیق دے‘‘ یا اس حوالے سے’’ہمارے لائق کوئی خدمت ہو تو بتاؤ‘‘۔

جب مناسب تربیت پانے کے بعد مریض نشے کے بغیر صحت مند، پُرسکون اور خوشحال زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو انہیں فالواپ اور بحالی پانے والے مریضوں کی مخصوص محفلوں میں شمولیت کی تاکید کے ساتھ رخصت کیا جاتا ہے۔ یہ محفلیں ’’این اے میٹنگز‘‘ کہلاتی ہیں وہ ان میں بین الاقوامی شہرت کے حامل بارہ قدموں کے پروگرام کو اپناتے ہیں جو نشے سے نجات کیلئے لازم ہے۔ علاوہ ازیں مریض صداقت کلینک کے فالو اپ پروگرام میں شرکت بھی جاری رکھتے ہیں اور روزمرہ کے مسائل حل کرنے کیلئے راہنمائی بھی پاتے ہیں۔


پچھلا صفحہ

 

 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,