اہم سوال و جواب


منشیات سے کیا مراد ہے؟ نشے کی بیماری کب اور کیسے شروع ہوتی ہے؟ لوگ نشے کا انتخاب کیسے کرتے ہیں؟ نشے کے مریض کی پہچان کیا ہے؟ نشہ جسم اور دماغ پر کیا اثرات چھوڑتا ہے؟ نشہ کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟ نشے کی کتنی اقسام ہیں؟ کیا شادی کر دینے سے مریض نشہ چھوڑ دیتا ہے؟ علاج میں کیا کیا جاننا ضروری ہے اور اس کی راہ میں کون سی رکاوٹیں آتی ہیں؟ مریض پر سختیوں کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ معاونت سے کیا مراد ہے؟ نشے کے مرض اور شغل میں کیا فرق ہے؟ ذیل میں ان جیسے اور کئی سوالوں کے جوابات دئیے گئے ہیں۔ انہیں پڑھ کر نشے کی بیماری سے متعلق معلومات بڑھائیں اور اپنے پیارے کے علاج کیلئے راہ ہموار کریں۔ صداقت کلینک اس سلسلے میں آپ کو ایک معقول اور معیاری علاج کی سہولتیں دے سکتا ہے۔

* منشیات سے کیا مراد ہے؟
منشیات سے مراد وہ اشیاء ’’ادویات‘‘ ہیں جو انسان کی ذہنی کیفیات اور رویوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے استعمال سے ذہنی و جسمانی تکالیف اپنی شدت کھو دیتی ہیں۔ ہر نشہ اپنا مخصوص رویہ رکھتا ہے۔ کوئی نشہ دماغ کو سکون اور کوئی تحریک دیتا ہے۔ بعض نشے درد ختم کرنے والے اور بعض خیالات کو توڑنے مروڑنے والے ہوتے ہیں۔

* برصغیر میں کون سی منشیات کا استعمال ہوتا رہا ہے؟
روایتی طور پر برصغیر میں بھنگ، چرس، شراب اور افیون کا نشہ عام ہو رہا ہے۔ کھانسی کے شربتوں، خواب آور گولیوں اور نارکوٹکس کے ٹیکوں کا استعمال پچھلے چند سالوں میں خطرناک شکل اختیار کر گیا ہے۔ 1980ء کے بعد تیزی کے ساتھ ہیروئن کی وباء پھیلی ہے۔

* زیادہ تر کس قسم کے لوگ نشہ کرتے ہیں؟
دیکھنے میں آیا ہے کہ پریشان حال، نارمل، خوش باش اور ہر قسم کے لوگ نشہ کرتے ہیں۔ نشے کا آغاز عام طورپر تفریح، رواج یا ’’علاج‘‘ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ بے سکونی، نشے کا ماحول اور اس کی آسان دستیابی اس کو ہموار کرتے ہیں۔ لوگ نشے کا استعمال پھولوں کی طرح خوشی اور غمی دونوں موقعوں پر کرتے ہیں۔

* نشے کی بیماری کن لوگوں کو ہوتی ہے؟
جو لوگ نشہ کرتے ہیں انہی میں سے کچھ لوگ نشے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ نشے کی بیماری کیلئے جسم کی کیمسٹری میں ایک بنیادی نوعیت کی تبدیلی کا آنا ضروری ہے۔ تاہم اس تبدیلی کا تعلق موڈ یا مزاج سے نہیں۔ ایسا کب اور کیوں ہوتا ہے، اس کی حتمی وجہ ابھی معلوم نہیں ہو سکی۔

*نشے کے مرض اور شغل میں کیا فرق ہے؟
نشے کے مرض میں جسم زیادہ سے زیادہ نشہ طلب کرنا شروع کر دیتا ہے اور مریض یہ طلب ہر حالت میں پوری کرنے پر مجبورہوتا ہے۔ شوقیہ نشہ کرنے والے لوگ نشے کی مقدار، وقت اور جگہ پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ جبکہ نشے کا مریض یہ اختیار مکمل طور پر کھو دیتا ہے۔ مریض سمجھتا ہے کہ نشے میں کوئی نقص ہے، لہذٰا وہ مزید نشے کی جستجو میں رہتا ہے۔ ’’نقص‘‘ اصل میں مریض کے جسم میں ہوتا ہے جو ایک طرح سے شے سے ’’الرجک‘‘ ہو جاتا ہے۔

 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,