اہم سوال و جواب


* انٹروینشن کی کچھ تفصیل بتائیں؟
انٹروینشن وہ طریقہ کار ہے جس میں اہل خانہ اور دوست احباب مل کر ماہر کی راہنمائی میں مریض سے ملاقات کرتے ہیں۔ اس ملاقات میں وہ مریض کے سامنے نشے سے ہونے والی منظر کشی خوبصورتی اور ملائمت سے کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ مریض خود فریبی میں سے نکل کر حالات کی اصل تصویر دیکھ لیتا ہے۔ حالات کی اصل تصویر دیکھنے کے بعد کوئی مریض بھی زیادہ دیر تک علاج کو رد نہیں کر سکتا۔
ضروری نہیں کہ مریض علاج سے پہلے آمادہ ہو۔ ہاں! یہ ضروری ہے کہ اہل خانہ میں سے کوئی مریض کیلئے وہ فیصلہ کرے جو خود مریض نہیں کر سکتا۔ انتظار کی کوئی ضرورت نہیں۔ انٹروینشن کا بیڑا عام طور پر گھر کا کوئی ایسا شخص اُٹھاتا ہے جو مریض کی جان بچانے کیلئے ذاتی نفع و نقصان کی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ وہ شخص نشے کی بیماری میں پوشیدہ حقیقی خطرات کوپہچان لیتا ہے۔
اہل خانہ تنہا مریض سے بات کریں تو مریض اپنے بارے میں بیان کئے گئے حقائق کو جھٹلاتا ہے۔ ریسرچ کی بدولت اب مل جل کر حقائق کو ایسے انداز میں مریض کے سامنے پیش کرنا ممکن ہو گیا ہے کہ وہ انہیں جھٹلا نہ سکے۔ انٹروینشن کے دوران جب مریض یہ جان لیتا ہے کہ اہل خانہ مجھے تکلیف نہیں دینا چاہتے بلکہ میرا دُکھ دور کرنا چاہتے ہیں تو وہ تعاون پر آمادہ ہو جاتا ہے۔
اہل خانہ ’’مداخلت‘‘ میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ انہیں فکر ہوتی ہے کہ مریض سے تعلقات نہ بگڑ جائیں حالانکہ تعلقات پہلے ہی بگڑ چکے ہوتے ہیں۔ انہیں مریض کی طرف سے جھگڑے یا نقصان کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔ کبھی ان کا خیال ہوتا ہے کہ مریض مدد کی حدوں سے گزر چکا ہے۔ بیماری کو سمجھنے کے بعد یہ خیالات بدل جاتے ہیں۔ انٹروینشن سے پہلے اہل خانہ سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں اور مریض کے شب و روز میں سے ایسے واقعات تلاش کرتے ہیں جن کا تعلق نشے کے استعمال سے ہو اور جہاں نشے کے نتیجے میں مریض یا اہل خانہ کو شرمندگی، نقصان، خطرے یا تباہی کا سامنا ہوا ہو۔
ان واقعات کو ’’مداخلت کے نکات‘‘ کہا جاتا ہے۔ مداخلت میں حصہ لینے والے تمام افراد ان نکات پر مبنی اپنی اپنی فہرست تیار کرتے ہیں۔ ان نکات میں ہم مریض کو آگاہ کرتے ہیں کہ اگر اس نے علاج قبول نہ کیا تو آئندہ اسے نشے کے نتیجے میں ہونے والی تکلیفیں تنہا ہی جھیلنی پڑیں گی۔ گھر میں اگر کسی نے نشے کے نتیجے میں تکلیفیں اُٹھانی ہیں تو اس کا اصل حقدار مریض ہے کیونکہ صرف وہی اس خاص پوزیشن میں ہے کہ ان تکلیفوں سے فائدہ اُٹھا سکے۔ تاہم یہ تکلیفیں اسے نشے سے نجات کی راہ دکھا سکتی ہیں۔
انٹروینشن میں کم از کم تین اورزیادہ سے زیادہ آٹھ افراد شرکت کرتے ہیں۔ اہل خانہ کے علاوہ قریبی عزیز اور مریض پر اثرورسوخ رکھنے والے دوسرے افراد بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ ایسا شخص جو خود نشہ کرتا ہو اسے شریک نہ کریں۔ بے شک وہ نشے کا مریض نہ ہو وہ لاشعوری طور پر مریض کے نشے کا دفاع کرے گا۔ ہاں! اگر کوئی نشے کی بیماری سے بحال ہو چکا ہو تو اس کی شمولیت بھی بہت فائدہ مند ہو گی۔ بچوں کو شامل نہ کریں۔ وہ مریض کو توجہ ہٹانے کا موقع فراہم کریں گے۔ نوجوان پر اعتماد ہوں تو بہت مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ اگر کوئی مریض کو مشتعل کرنے کا باعث بنتا رہا ہو تو اس کو بھی شامل نہیں ہونا چاہیئے۔ ایسے افراد خانہ جو اپنے آنسوؤں پر قابو نہ پا سکیں وہ بھی شریک نہ ہوں۔ آنسو مریض کیلئے دو کوڑی کے بھی نہیں ہوتے۔
سب کیلئے نشے کی بیماری کو سمجھنا ضروری ہے لیکن سربراہ کا علم تو دوسروں سے بھی بڑھ کر ہونا چاہئے۔ انٹروینشن سے پہلے ماہر کی زیر نگرانی ریہرسل بھی ضروری ہے جس میں ایک شخص مریض کا ’’کردار‘‘ ادا کرتا ہے اور باقی افراد باری باری سے اپنے ’’نکات‘‘ پیش کرتے ہیں۔


 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,