اہم سوال و جواب


تمام افراد طے شدہ پروگرام کے تحت صبح کے وقت مریض سے ملتے ہیں جب وہ زیادہ نشے میں ہو اور نہ تروڑک میں۔ سربراہ مریض کو سب کی آمد کا مقصد بیان کرتا ہے اور اس سے وعدہ لیتا ہے کہ وہ خاموشی سے تمام افرا د کے نکات سن لے۔ تاہم مریض کو جواب دینے سے بری الذمہ کر دیا جاتا ہے۔ مریض کا کردار ایک سامع کے طور پر متعین کر دیا جاتا ہے کیونکہ انٹروینشن میں مریض کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع نہیں ہوتا۔
اس کے بعد سربراہ انٹروینشن کا آغاز کرتا ہے اور پہلے افراد کو اپنے نکات پیش کرنے کیلئے کہتا ہے۔ ذیل میں نمونے کے طور پرانٹروینشن کے کچھ نکات دیئے گئے ہیں۔

* دو ہفتے پہلے آپ کی رضائی کو آگ لگ گئی تھی اور اگر میں نہ آتی تو آپ جل گئے ہوتے۔میں آپ کے سونے تک آپ کا چوکیدارا کرتی تھی آئندہ میں یہ ذمہ داری نہیں اُٹھا سکتی( بیوی)
* دو دفعہ علاقہ تھانے دار آپ کے نشے کے لین دین کے بارے میں مجھے تھانے بلوا چکا ہے۔ اگر کوئی قانونی گرفت ہوئی تو میں تمہاری کوئی مدد نہ کر سکوں گا ( باپ)
* پچھلے ہفتے تم نے میری چیک بک پر جعلی دستخط کر کے پانچ ہزار نکلوائے تھے۔ نشے کی خاطر تم قانون کو ہاتھ میں لو گے تو تمہیں اسے کے نتائج خود بھگتنے پڑیں گے ( بھائی)
* نشے کی وجہ سے آپ خاندان کی خوشی غمی میں شریک نہیں ہوتے۔ پچھلے ایک ماہ میں آپ گیارہ دن ملازمت پر نہیں گئے۔ میں آپ کیلئے مزید بہانے نہیں کر سکتی ( بیوی)
* ایک ماہ پہلے تم نشے کی مدہوشی میں غسل خانے میں گر گئے تھے اور تمہیں ملازموں نے دروازہ توڑ کر نکالا تھا (والدہ)
* پچھلے دنوں کچھ لوگ میرا رشتہ دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ امی آپ کو ان سے چھپانے میں لگی ہوئیں تھیں، مجھے بہت ندامت ہو رہی تھی (بہن)
اگر مریض تکرار پر اتر آئے تو آپ اس کی بات کا جواب نہ دیں بلکہ وہی نکتہ آپ دوبارہ پڑھ دیں۔ نکات کو اسی طرح پیش کریں جیسے ریہرسل میں پیش کیا تھا۔ اشتعال انگیزی سے بچیں اور محبت اور فکرمندی کا انداز برقرار رکھیں۔ ہر کوئی اپنے نکات ختم کرتے ہوئے مریض کو کہے، ’’کیا تم اسی انداز میں زندگی گزارنا چاہتے ہو؟‘‘ اور مریض کو مشورہ دیں ’’بہتر ہے علاج کیلئے رجوع کرو‘‘ چونکہ مریض کو کسی بات کا جواب نہیں دینا ہوتا اسی لئے توجہ ’’جواب بنانے ‘‘ کی بجائے سننے پر ہوتی ہے۔ اسی طرح بار بار اور مؤثر انداز میں کہی ہوئی باتیں اس پر اثر کرنے لگتی ہیں۔ باربار کہنے سے نہ جھجکیں۔ اسے انکار کے نتائج سے بھی آگاہ کرتے رہیں لیکن یاد رہے کہ وہ کہیں جس پر عمل کا ارادہ ہو۔ انٹروینشن میں آپ مریض سے نشہ چھوڑنے کا وعدہ نہیں مانگتے۔ وعدہ کسی بیماری کا علاج نہیں۔ آپ اُسے علاج قبول کرنے کیلئے کہتے ہیں۔ انٹروینشن کے دوران مریض کو کھسکنے کا موقع نہ دیں۔ تسلسل کے ساتھ نکات پیش کرتے رہیں۔ پہلے مریض غصہ کرتا ہے۔ پھر چہرے پر ناگوار تاثر لئے چپ بیٹھ جاتا ہے۔ اس کی خاموشی سے نہ گھبرائیں۔ خاموشی اس کے ذہن پر مثبت اور مؤثر کام کرتی ہے۔ وہ بے چینی سے پہلو بدلتا ہے، پھر رونے لگتا ہے اور پھر ہاں کر دیتا ہے۔ کبھی خاموشی اور آنسو ’’ہاں‘‘ کا کام دیتے ہیں۔ کم وبیش دو گھنٹے میں انٹروینشن کے مقاصد پورے ہو جاتے ہیں۔ مریض کے داخلے کا بندوبست یہ مرحلہ آنے سے پہلے ہی ہونا چاہیئے۔ دیر کرنے سے وہ دوبارہ خود فریبی میں آ سکتا ہے۔ صحیح بنیادوں پر کی جانے والی انٹروینشن میں کامیابی کی شرح 90 فیصد ہوتی ہے۔ جو لوگ سوچتے ہیں کہ کوئی معجزہ ہی ان کے مریض کو علاج پر راضی کر سکتا ہے، انٹروینشن ان کیلئے معجزے کا ہی کام دیتی ہے۔


 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,