اہم سوال و جواب


ان سب پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہر منشیات پانچ افراد پر مبنی ٹیم تشکیل دیتا ہے۔ یہ ٹیم ایسے تربیت یافتہ افراد پر مبنی ہوتی ہے جنہیں اس کام کا طویل تجربہ ہوتا ہے اس میں کم از کم دو افراد بحال شدہ مریض ہوتے ہیں، دو افراد نشے کی بیماری پر معقول معلومات رکھتے ہیں ٹیم کا سربراہ ایک ڈاکٹر ہوتا ہے جو نشے کی بیماری اور مریض کی فطرت اور مرض کی نوعیت سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے۔ یہ ٹیم اہل خانہ کے تعاون سے ایسے وقت مریض کے گھر پہنچتی ہے جب وہ سو رہا ہوتا ہے اور اسے نشہ کئے ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے ہوں۔ اہل خانہ ٹیم کی مریض تک راہنمائی کرتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ ٹیم کے افراد کمرے کا گہری نظر سے جائزہ لیتے ہیں، خاموشی سے ایسی چیزیں منظر سے ہٹا دیتے ہیں جن سے کوئی دقت پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔ اُس کے بعد ٹیم کے ارکان مریض کے اردگرد ترتیب سے بیٹھ جاتے ہیں۔
اہل خانہ حسب ہدایت مخل نہیں ہوتے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس کام میں کچھ وقت لگتا ہے۔ وہ صبر سے کرائسسز انٹروینشن کے نتائج کا انتظار کرتے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ مریض محفوظ ہاتھوں میں ہے اور اگر مریض کو نشے کے زہریلے اثرات سے بچانا ہے تو دل پر پتھر رکھنا ہو گا۔ کرائسسز انٹروینشن میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ صرف ہوتا ہے۔ اس موقع پر جذباتی افراد کو گھر سے بھیج دیا جاتا ہے۔ بچے اُس وقت سو رہے ہوں تو بہتر ہے۔ اگر گھر میں نشے کا کوئی مریض یا محض نشہ کرنے والا ہو تو اسے اس منصوبے کی کانوں کان خبر نہیں ہونے دی جاتی۔  ورنہ وہ اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرے گا۔
ٹیم کا سربراہ ملائیمت سے مریض کو جگاتا ہے، احترام کے ساتھ اپنا تعارف کرواتا ہے اور آمد کا مقصد بیان کرتا ہے۔ ایک لمحے کو مریض ہکا بکا نظر آتا ہے لیکن جلد ہی وہ گہری سوچ میں ڈوب جاتا ہے۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ اپنا پہلا ردعمل دیتا ہے جو کہ مندرجہ ذیل میں سے ایک ہوتا ہے۔

* یہ دیکھتے ہوئے کہ فیصلے کی قوت اُس کے پاس نہیں ہے فوری طور پر ساتھ جانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔
* مریض چاہتا ہے کہ اسے قائل کیا جائے۔ ٹیم کے ارکان خاص طور پر بحال شدہ افراد اپنی مثال کے حوالے سے اسے قائل کرتے ہیں۔ مریض تھوڑی بہت کج بحثی کرتا ہے۔ علاج کی ضرورت سے انکار کرتا ہے۔ پھر اچانک قائل ہو جاتا ہے۔
* مریض بغاوت پر اتر آتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ مجھے کون لے جا سکتا ہے، اپنے گھر والوں کو برا بھلا کہتا ہے اور اُ نہیں بلانے پر اصرار کرتا ہے۔ ایسے میں ٹیم کے ارکا ن اتنی مہارت سے انجیکشن دیتے ہیں کہ اسے پتا بھی نہیں چلتا اور انجیکشن لگ چکا ہوتا ہے۔ انجیکشن لگنے کے بعد مریض مزاحمت چھوڑ دیتا ہے۔ انجیکشن کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اُس کی بغاوت اور غصہ سرد ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ تبادلہ خیال پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اگر مستقل مزاجی سے اسے قائل کرتے رہیں تو وہی مریض جو تھوڑی دیر پہلے منہ سے آگ نکال رہا تھا ملائمت سے بات کرنے لگتا ہے اور رضا مند ہو جاتا ہے۔
کرائسسز انٹروینشن میں بھی عام انٹروینشن کی طرح اصرار کے ساتھ ساتھ نشے کے تباہ کن واقعات کو دہرایا جاتا ہے۔ یہ تباہ کن واقعات منصوبہ بندی کے دوران اہل خانہ سے معلوم کئے جاتے ہیں اور کرائسسز انٹروینشن کے دوران ناقابل تردید شواہد کے ساتھ ترتیب وار مریض کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ کرائسسز انٹروینشن میں کامیابی کی شرح 100 فیصد ہے بشرطیکہ تمام احتیاطوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔


 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,