اہم سوال و جواب


* نفسیاتی علاج کی ابتدا کیسے ہوتی ہے؟
نفسیاتی علاج کا پہلا حصہ تو یہ ہے کہ مریض کو نشے کی بیماری پر اتنا سائنٹفک علم دیا جائے کہ وہ تسلیم کرنے لگے کہ ’’ہاں! میں کبھی محفوظ طریقے سے نشہ نہیں کر سکوں گا، کیوں کہ میرے جسم میں ایک ایسی مستقل تبدیلی آ چکی ہے جو نشے کے استعمال کو رد کرتی ہے۔ جبکہ میرے دماغ میں ایسی سوچ رچ بس گئی ہے جو مجھے نشے کا استعمال کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں بربادی جنم لیتی ہے۔ مزید یہ ہے کہ میں جب بھی نشہ کروں گا مجھے سکھ نہیں بلکہ دکھ ملیں گے۔‘‘
اس کے ساتھ ہی مریض یہ سمجھ لیتا ہے کہ جس طرح وہ کنٹرول سے نشہ نہیں کر سکتا اسی طرح وہ محض قوت ارادی اور کنٹرول سے نشہ چھوڑ بھی نہیں سکتا۔ نشہ چھوڑنے کیلئے اسے طرزِ زندگی اور نظریات میں ایک اور بڑی تبدیلی لانا ہو گی۔ یہ حقائق جاننے کے بعد ہی نشے سے نجات کا دروازہ کھلتا ہے کیونکہ مریض اپنے علاج میں حقیقی دلچسپی لینے لگتا ہے۔

* ’’علامات پسپائی‘‘ پر کیسے قابو پایا جاتا ہے؟
’’علامات پسپائی (Withdrawal Symptoms) پر قابو پانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی بشرطیکہ مناسب سہولتیں موجود ہوں۔ ایسی ادویات موجود ہیں جن کے بروقت اور مناسب استعمال سے ’’علامات پسپائی‘‘ باآسانی کنٹرول کی جا سکتی ہے۔ پھر بھی انتہائی کمزور مریضوں کیلئے اس بات کی گنجائش موجود رہنی چاہیئے کہ ’’علامات پسپائی‘‘ کی شدت توڑنے کیلئے ایک دفعہ نشے کا ’’کنٹرول استعمال‘‘ کیا جا سکے۔ ’’علامات پسپائی‘‘ مناسب طریقے میں کنٹرول کرنے میں عموماً دو سے تین ہفتے لگ جاتے ہیں۔

* جسمانی صحت کی بحالی کیسے ہوتی ہے؟
’’علامات پسپائی‘‘ کے دوران مریض کو دودھ، کولڈرنکس، نمکیات، وٹامن اور ہلکی پھلکی غذا دی جاتی ہے۔ اس کے بعد روزمرہ غذا بحال کر دی جاتی ہے۔ وٹامن نمکیات اور بھوک بڑھانے والی ادویات جاری رکھی جاتی ہیں لیکن نشہ اتارنے کیلئے دی جانے والی ادویات بند کر دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد مریض کی دماغی حالت اور موڈ کا بغور جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس دوران مریض اپنے طرزِ عمل سے اپنی نفسیاتی کیفیت کا اظہار کرتا ہے۔ خوراک کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور مختلف مشاغل میں مصروف رکھا جاتا ہے۔ چند دن کے بعد مریض کی ہلکی پھلکی ورزش بھی شروع ہو جاتی ہے۔

* معیاری علاج گاہ کا انتخاب کیسے کیا جائے؟
معیاری علاج گاہ کی پہچان ان چیزوں سے ہو سکتی ہے۔
* علاج گاہ میں مریض کی بحالی کی منازل کو نفسیاتی پیمانوں پر ناپنے کا رواج ہو، صرف جسمانی صحت کو ہی کامیابی تصور نہ کیا جاتا ہو۔
* بارہ قدموں کے پروگرام کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔
* گروپ کی شکل میں مریض کو نشے کی بیماری پر علم دیا جاتا ہو۔
* علاج کرنے والی ٹیم اس شعبے میں طویل تجربے کی حامل ہو۔
* ماہرین منشیات کے علاوہ نشے سے بحال ہونے والوں کی معقول تعداد بھی علاج میں مدد دے رہی ہو۔
* ’’فالو اپ‘‘ پر توجہ دی جاتی ہے۔


 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,