اہم سوال و جواب


* مریض کے علاج میں اہل خانہ کس طرح شریک ہو سکتے ہیں؟
کامیاب علاج کی سب سے بڑی ذمہ داری مریض پر ہے۔ تاہم اہل خانہ کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنے بیماری کے متعلق ٹھیک اور معیاری معلومات حاصل کرے۔ آپ یہ نہ سمجھیں کہ مریض کو داخل کروانے کے بعد آپ آرام سے ٹی وی دیکھ سکتے ہیں۔ آپ یہ بھی نہ سمجھیں کہ آپ نے جو کچھ کرنا تھا کر لیا، باقی سب کچھ مریض اور معالج پر ہے۔ اکثر ہمیں ایسے خاندانوں سے واسطہ پڑتا ہے جو کہ مریض کو داخل کروانے کے بعد مریض اور ماہرین سے ’’قطع تعلق ‘‘ کر لیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ’’نشہ کی بیماری پر علم حاصل کریں۔‘‘ وہ کہتے ہیں ’’یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے!‘‘ اگر نشے کی بیماری صرف مریض کا ہی مسئلہ ہوتا تو پھر مریض کے اردگرد رہنے والے کیوں متاثر ہوتے ہیں؟ اہل خانہ کیوں کئی کئی سال مریض کو ’’ٹھیک‘‘ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔

* مریض کو ریلیپس سے بچانے کیلئے کیا تدابیر اختیار کی جائیں؟
فرض کریں مریض پروگرام کے مطابق اپنا علاج مکمل کروا کے گھر واپس آ جاتا ہے اور اپنے سابقہ رویوں کو اپنا لیتا ہے تو اس بات کا قوی امکان ہو گا کہ وہ دوبارہ نشے میں گر جائے گا۔ ان رویوں اور نشے کے استعمال میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اگر یہ رویے باقی رہیں گے تو نشے کا استعمال بھی واپس آئے گا۔ نشہ چھوڑنے کیلئے اسے نشئی روئیے بھی بدلنے ہونگے۔
ریلیپس سے نمٹنے کا پہلا سنہری اصول یہ ہے کہ ریلیپس کے امکان کو تسلیم کر لیں۔ مریض بیمار ہے اور دوسری بیماریوں کی طرح مریض کو پھر سے ’’دورہ‘‘ پڑ سکتا ہے۔ یاد رکھیں کہ حتمی طور پر مریض نے خود ہی اپنی بحالی کا بوجھ اُٹھانا ہے۔ ہم 24 گھنٹے مریض کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اس کی رکھوالی نہیں کر سکتے۔ ہم نے یہ دیکھا ہے کہ جو مریض ریلیپس نہیں ہوتے وہ آخر کار کیا کام کرتے ہیں کہ ریلیپس ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ امید ہے کہ آپ کا مریض دوبارہ نشے میں نہیں گرے گا۔ لیکن ریلیپس سے بچاؤ کی منصوبہ بندی ہر مریض اور اس کے اہل خانہ نے ایسے ہی کرنی ہے جیسے کہ اس کے ریلیپس ہونے کا قوی امکان ہے۔ ریلیپس سے بچاؤ کیلئے بہترین نکتہ یہ ہے کہ آپ مریض کو مسلسل علاج میں ہی رکھیں۔ یاد رکھیں کہ علاج سے مراد صرف وہ عرصہ نہیں جب مریض علاج گاہ میں ہوتا ہے۔ ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد بھی معالج سے رابطہ اور علاج جاری رہنا چاہیئے۔
یاد رکھیں! ریلیپس کی منصوبہ بندی ایسے ہی ہے جیسے کسی فوج کی تیاری۔ کسی بھی وقت دشمن سے حملے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اگر ہم حملے کیلئے تیار نہیں ہوں گے تو کسی بھی وقت حملہ ہو گا۔ ہم دیکھتے ہی رہ جائیں گے اور سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ ریلیپس کی منصوبہ بندی ایسے ہی ہے جیسے ہم سارا سال سیلاب سے بچنے کیلئے بند باندھتے ہیں۔ اگر ہم بند نہ باندھیں تو پھر ہر طرف تباہی اور بربادی ہو گی۔ اگر سیلاب کے آنے پر ہم بند باندھنے چل پڑیں تو کیا ہو گا؟ جب ہم پہلے سے منصوبہ بندی کریں تو اکثر ریلیپس نہیں ہوتا۔ جو فوج ہر وقت تیار ہو اسے اکثر جنگ نہیں لڑنا پڑتی۔ اسے کوئی نہیں آزماتا۔

* مریض کو اس کی معاشرتی ذمہ داریاں اور مقام کیسے لوٹائیں؟
آئیے! یہ فرض کرتے ہیں کہ آپ نے تمام گھریلو ذمہ داریاں اور مالی امور سنبھال رکھے تھے اوراس کی وجہ محض یہ تھی کہ آپ کا پیارا نشے میں دھت یا مگن یہ ذمہ داریاں نبھا نہیں سکتا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اب آپ خود بھی اس خواہ مخواہ کی ذمہ داری سے عاجز ہوں لیکن یہ ذمہ داریاں آپ کے معمولات کا حصہ بن گئیں اور اب آپ اسے ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ چونکہ اب آپ کو یہ مسئلہ درپیش ہے۔ اگر آپ یہ ذمہ داری سنبھالے رکھنے پر اصرار کرتے ہیں تو مریض ناراض ہوتا ہے اور اگر آپ ذمہ داری مریض کو سونپنے کے بارے میں غور کرتے ہیں تو آپ کو بے چینی کا سامنا ہوتا ہے۔ عام طور پر آپ کنٹرول جاری رکھنے میں ہی ’’خیریت‘‘ محسوس کرتے ہیں۔
اہل خانہ مریض پر بھروسہ نہیں کر پاتے۔ انہیں شک ہے کہ مریض کسی بھی وقت نشے میں گر جائے گا۔ ’’حفظِ ماتقدم کے طور پر‘‘ وہ اپنے سابقہ روئیے مریض کے ساتھ برقرار رکھتے ہیں۔ گھر کے ہر فرد کیلئے بہترین پالیسی یہ ہے کہ وہ مریض کو کچھ ذمہ داری اور سابقہ مقام دینے کیلئے فوری طور پر آمادہ ہو جائے۔ مریض کو اگر ذمہ دار بنانا ہے تو اسے ذمہ داریاں دینی ہی پڑیں گی۔


 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,