اہم سوال و جواب


* کیا نشے کی بیماری صرف دکھی لوگوں کو ہوتی ہے؟
جب ہر قسم کے لوگ نشہ کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ ہر قسم کے لوگ نشے کے مریض بھی بنیں گے۔ دکھی ہونا ضروری نہیں۔ بحرحال، نشہ کرنے والوں میں سے ایک خاص تعداد ہی بیماری میں مبتلا ہوتی ہے۔ نشے کی بیماری کیلئے ضروری ہے کہ جسم نشہ ضائع کرے۔ ایسا کب اورکیوں ہوتا ہے، اس کی حتمی وجہ کوئی نہیں جانتا۔ تاہم ہیروئن ایک ایسا نشہ ہے جو کہ ہر ایک کو مریض بنا دیتا ہے۔ باقی نشے سب کو نشے کا مریض نہیں بناتے۔ ہاں! نشے بازی کی راہ ضرور ہموار کرتے ہیں۔

* نشے کا مریض کون ہوتا ہے؟
مریض وہ ہے جو بذات خود نشے سے رک نہ سکے اور اگر اسے روک دیا جائے تو ذہنی اذیت اور جسمانی تکلیفوں میں مبتلا ہو جائے۔ نشے کا مریض اُس بیمار انسان کو کہتے ہیں جو منشیات کے ساتھ نباہ کر نہیں سکتا۔ لیکن پھر بھی اُن کے استعمال سے باز نہیں آتا۔ وہ نشے سے سکھ نہیں پاتا لیکن اس آس پر نشہ جاری رکھتا ہے کہ کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی طرح نشے کو پہلے کی طرح استعمال کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ وہ دکھ پاتا ہے۔ لیکن نشے سے اُس کی چاہت بڑھتی رہتی ہے۔

* نشے کے مریض کی پہچان کیا ہے؟
نشے کے مریض کی شخصیت تیزی سے گرتی ہوئی صحت کے باعث آسانی سے پہچانی جاتی ہے۔ اُسے فرائض کا ہوش رہتاہے نہ بودو باش کا، میل جول سے گریز اور گردو پیش سے لاعلمی ایک عادت بن جاتی ہے۔ بے وقت سونا اور جاگنا، جھوٹی قسمیں، جھوٹے وعدے، گپیں، ڈینگیں ایک نشے کے مریض کی خاص صفات ہیں۔ رشتوں کی بلیک میلنگ اُس کا وطیرہ بن جاتا ہے۔ پریشان خیالی اور بے چینی، کبھی شعلہ کبھی شبنم، کبھی دھمکیاں، کبھی منتیں، یہ ہے ایک نشہ باز کی پہچان۔

* نشے جسم اور دماغ پر کیا اثرات چھوڑتے ہیں؟
جسم اور دماغ پر نشے کے مضر اثرات اُس وقت شروع ہوتے ہیں جب کوئی شخص نشے کا مریض بن جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ اندھا دھند نشہ کرتا ہے۔ تمام نشے جسم اور دماغ پر زبردست تباہی مسلط کرتے ہیں۔ فرق صرف مدت کا ہے۔ جہاں چرس اور شراب سلو پوائزنگ کرتے ہیں وہاں ہیروئن تو دیکھتے ہی دیکھتے انسان کو سایہ بنا دیتی ہے۔ جسم اور دماغ پر نشے کے بعض اثرات وقتی ہوتے ہیں، لیکن نشہ جاری رہے تو مستقل نوعیت کی تبدیلیاں آ جاتی ہیں۔

* کیا نشے کی بیماری کا تعلق صرف ہیروئن سے ہے؟
نہیں! نشے کی بیماری کی چند علامتیں ہیں جو کسی بھی نشے کے ساتھ ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اگر کوئی شخص روز بروز زیادہ نشہ کرنے لگے یا ایک ساتھ دو نشے کرنے لگے یا پہلا نشہ چھوڑ کر دوسرا نشہ کرنے لگے تو یہ نشے کی بیماری کی علامت ہے۔ اگر کوئی شخص ایک نشہ استعمال کرتے کرتے بیمار ہو جائے یعنی اُس کو نشے کی کثیر مقداروں سے بھی سکون نہ ملے تو پھر وہ دوسرا نشہ استعمال کرنا شروع کردیتا ہے۔ جسے ایک نشہ سکون دینا بند کر دے پھر ہر نشہ اُس کے ساتھ یہی کہانی دہراتا ہے۔
 

 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,