اہم سوال و جواب


* نشے کی کتنی اقسام ہیں؟
نشے سکون یا تحریک دیتے ہیں یا پھر درد ختم کرنے اور خیالات کو بدلنے کے کام آتے ہیں۔ ہر نشہ ان میں سے ایک یا ایک سے زیادہ خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ شراب کی خاص خوبی سکون دینا ہے جبکہ کوکین تحریک دینے اور ہیروئن درد ختم کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ چرس خیالات اور نظریات بدل دیتی ہے۔ نشے کی بیماری میں یہ خصوصیات زنگ آلود ہو جاتی ہیں۔ پھر نشہ مریض کیلئے ایک دردِ سر بن جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر نشے کی ’’وجہ شہرت‘‘ ایک خاص اثر ہے لیکن دوسری ’’خوبیاں‘‘ بھی ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ بہرحال یہ طے ہے کہ نشے کی خوبیاں نشے کے مریضوں کے نصیبوں میں نہ لکھیں۔

* ہیروئن کا عادی آخر کار کس حال کو پہنچتا ہے؟
آپ اس شخص کا تصور کر سکتے ہیں جو شدید لعن طعن کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ مالی طور پر بھی دیوالیہ ہو چکا ہو۔ پہلا مرحلہ اپنا اثاثہ بیچ کھانے کا ہوتا ہے۔ دوسرا ادھار کا اور تیرا چوری و ہیرا پھیری کا۔ اس کے ساتھ صحت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور سوکھ کر کانٹا ہو جاتا ہے۔ نیز کیف و سرور کا احساس بھی کھو جاتا ہے اور محض تکلیفوں سے بچنے کیلئے وہ نشہ جاری رکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ مریض مکمل تباہی سے پہلے اپنے آپ کو بیمار نہیں مانتا، اس لئے علاج پر مائل نہیں ہوتا بلکہ علاج کو رد کرتا ہے۔

* یہ سمجھ لینا کیوں ضروری ہے کہ نشہ ایک مکمل بیماری ہے؟
جب تک ہم نشے کو بیماری نہ سمجھ لیں ہم مریض کو صحیح مدد فراہم نہیں کر سکتے۔ والدین علاج سے پہلے کئی حربے استعمال کرتے ہیں۔ جن میں وعدے لینا، قسمیں دینا، طعن و تشنیع کرنا، نگرانی اور مارپیٹ رسیوں سے جکڑنا وغیرہ شامل ہیں لیکن اس طرح مریض کو نشے سے دور رکھنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ مریض کو کاروبار اور گھر سے بے دخل کرنے، عاق کرنے یا جیل بجھوا دینے سے بھی معاملہ مزید بگڑ جاتا ہے۔ ویسے تو مریض پر الزام تراشی کرنے اوربھڑاس نکالنے کو جی چاہتا ہے۔ لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ گو نشے کا آغاز مریض کی بہت بڑی خطا تھی۔ لیکن اب وہ محض بیمار ہے۔ اس بیماری سے وہ معقول علاج کے بغیر نہیں نکل سکتا۔

* کیا نشے کی بیماری خاندان کی ’’سانجھی‘‘ بیماری ہے؟
ویسے تو ہر بیماری میں خاندان کی ’’سانجھ‘‘ ہوتی ہے لیکن نشے کی بیماری میں اہل خانہ کی تکلیف کسی طرح بھی مریض سے کم نہیں ہوتی۔ اہل خانہ میں سے چند افراد اس بری طرح متاثر ہوتے ہیں کہ انہیں باقاعدہ مریض سے ہٹ کر الگ سے مکمل علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان افراد کو ’’ہم روگی‘‘ کہا جاتا ہے۔ نشے کی بیماری کے اصل شکار تو یہی لوگ ہوتے ہیں۔

* نشہ مریض کرتا ہے تو پورا خاندان متاثر ہوتا ہے؟
جنگ اور محبت کی طرح نشے میں بھی مریض اپنی ہر حرکت کو جائز سمجھتا ہے۔ نشے کی خاطر وہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتا ہے۔ صدمے سے اہل حانہ کا برا حال ہوتا ہے۔ وہ دنیا سے میل ملاپ چھوڑ دیتے ہیں۔ مریض انہیں مسلسل اپنی بیماری کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ مریض کی تکرار سے انہیں اپنے قصور وار ہونے کا شک ہونے لگتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم مریض کو نشے سے نہیں بچا سکے تو ہم ناکام لوگ ہیں۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ نشے کی بیماری کی حتمی ذمہ داری مریض پر ہی عائد ہوتی ہے کیونکہ نشہ اس نے خود ہی شروع کیا تھا۔ آپ نے کبھی ایسا کچھ نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ اس بیماری میں مبتلا ہوا ہو لیکن اگر آپ چاہیں تو اسے نشے سے نجات دلانے میں بھرپور کردار انجام دے سکتے ہیں۔
 

 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,