اہم سوال و جواب


* مریض کے علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟
علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ نشے کے مریض کی خود فریبی ہے۔ یہ اتنی بڑی رکاوٹ ہے کہ بعض اوقات نشے کی بیماری کو خود فریبی کی بیماری بھی کہا جاتا ہے۔ یہ خود فریبی مریض کو اپنے اصل حالات پر نظر ڈالنے کی اجازت نہیں دیتی۔ خود فریبی کی ایک ہلکی پھلکی شکل ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔ نشے کے مریضوں میں خود فریبی حد سے بڑھ جاتی ہے۔ نشہ مریض کی شخصیت کو مسخ کرتا ہے اور اس قدر قلابازیاں لگواتا ہے کہ وہ ہوش و خرد سے دور ایک ڈراؤنے خواب کی طرح نظر آنے لگتا ہے اور باوجود تباہی کے دہانے پر کھڑا ہونے کے اس کا اطمینان قابل دید ہوتا ہے۔ روم جل رہا ہوتا ہے لیکن نیرو بیٹھا چین کی بنسی بجا رہا ہوتا ہے۔ یہ خود فریبی کی انتہا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ مریض جھوٹ بول رہا ہے حالانکہ مریض کو واقعی اپنے حالات کا شعور نہیں ہوتا۔

* علاج کی راہ میں اور کونسی رکاوٹیں ہیں؟
نشے کے مریض کے علاوہ دنیا کا ہر مریض علاج مانگتا ہے۔ علاج رد کرنے کی وجہ خود فریبی کے علاوہ یہ ہے کہ وہ اپنی ’’دوائی‘‘ جیب میں لیئے پھرتا ہے۔ کوئی تعجب نہیں کہ وہ اپنے علاج کو ٹال سکتا ہے۔ مریض کی خود فریبی کا سامنا تو دوران علاج کرنا پڑتا ہے، علاج کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ والدین کی لاعلمی ہے۔ اس سے علاج میں سالوں کی تاخیر ہو جاتی ہے۔ گھر میں نشے کے مریض سمیت سبھی اذیت سے گزر رہے ہوتے ہیں لیکن اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ معاملہ زیادہ سنجیدہ نہیں ہے اور آہستہ آہستہ خود ہی حالات درست ہو جائیں گے۔ جب ہم نشے کی بیماری کے بارے میں کچھ نہیں کرتے تو وہ بڑھتی ہی رہتی ہے۔ حقائق جان لینے پر اہل خانہ مثبت قدم اٹھانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

* ہمارا بچہ نشے کا مریض نہیں ہو سکتا!
یہ بھی خود فریبی کی ایک شکل ہے۔ اپنے بچے کے بارے میں ایسا سوچتے ہوئے اذیت ہوتی ہے اس لئے ہم ایسا سوچنے سے کتراتے ہیں۔ لوگ ہمیں بتاتے ہیں ، بچہ سگنل دیتا ہے لیکن ہم وصول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں جو تیس لاکھ نشے کے مریض ہیں وہ ہمارے ہی بچے ہیں۔ محض نشہ کرنے والوں کی تعداد ان سے کئی گنا ہے۔ ہر تیرھویں گھر میں نشے کا مریض ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر شخص کا کوئی نہ کوئی فرسٹ کزن نشے کی بیماری میں مبتلا ہے۔ خدا نہ کرے کہ ہمارا بچہ نشہ کرے لیکن چیک کئے بغیر مطمئن نہ ہوں۔

* کیا شادی کر دینے سے مریض نشہ چھوڑ دیتے ہیں؟
یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ نشہ کے مریض صرف علاج سے نشہ چھوڑتے ہیں۔ جو لوگ نشہ کرتے ہیں لیکن نشے کے مریض نہیں، ممکن ہے شادی کی رنگینی میں گم ہو کر نشے چھوڑ دیں لیکن نشے کے مریض سے یہ توقع رکھنا زیادتی ہو گی۔ روائتی طور پر بگڑے ہوئے نوجوانوں کی اس امید پر شادی کر دی جاتی تھی کہ شاید سدھر جائیں اور بری سوسائٹی چھوڑ دیں۔ سیکس میں نوجوانوں کی دلچسپی کے باعث اکثر یہ ’’ٹوٹکا‘‘ کامیاب بھی رہتا تھا اسی لئے اس کا استعمال جاری ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ نشے کا مریض کسی بھی لحاظ سے شادی کے قابل نہیں ہوتا۔ یہ سراسر ظلم ہے۔
 

 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,