اہم سوال و جواب


* نشے کی بیماری کے بارے میں کیا کیا جاننا ضروری ہے؟
* مریض بیرونی وجوہات سے نشے کی کثیر مقداریں استعمال نہیں کرتا۔ دراصل مریض کا جسم نشے کو تیزی سے ضائع کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ اس طرح جو نشہ ضائع ہوتا ہے مریض وہ کمی پوری کرنے میں جت جاتا ہے۔ پھر مقدار کے ساتھ ساتھ بیماری اور بربادی بڑھتی رہتی ہے۔
* مکمل بربادی سے پہلے مریض علاج کیلئے رجوع نہیں کرتا۔ نشہ اسے حالات کی سنگینی کا احساس ہی نہیں ہونے دیتا۔ دوسری طرف جب تک مناسب علاج نہیں ہو گا نشے کی بیماری بڑھتی رہے گی۔ نشے کی بیماری میں قدم قدم پر جان لیوا حادثات ہوتے ہیں اس لئے انتظار کی بجائے فوری علاج ضروری ہے۔
* نشے کی بیماری میں مریض سے ایسی حرکات سرزد ہوتی ہیں جنہیں اخلاقی پیمانے پر گھٹیا اور مجرمانہ قرار دیا جا سکتا ہے لیکن حقیقت میں یہ نشے کی بیماری کی علامات ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے کہ دوسری بیماریوں میں قے یا بخار وغیرہ۔
* مریض کی خودفریبی، مزاج کا اتار چڑھاؤ، روئیے میں پل پل آنے والی تبدیلیاں، جھوٹ، دھوکا، بھلکڑپن اور فرائض سے لاپرواہی بھی اس بیماری کی چند علامتیں ہیں۔
* محض سزا یا جزا، بےجانکتہ چینی یا بے جا تعریف سے مریض میں کوئی دیر پا تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ آنسوؤں اور طیش کا طریقہ بھی کبھی کامیاب ثابت نہیں ہوا۔
* کسی مریض کو اچانک اور بلاوجہ نشہ چھوڑنے کا خیال نہیں آتا۔ جب بحرانوں کی آنچ مریض تک پہنچے تب ہی مریض نشہ چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اہل خانہ فطری محبت کے باعث بحرانوں کی آنچ مریض تک پہنچنے نہیں دیتے۔ نشے کا مزہ بدستور اس تک پہنچتا رہتا ہے۔ اسی لئے وہ نشہ ترک کرنے کا فیصلہ نہیں کر پاتا۔
* یہ خیال غلط ہے کہ مریض نہ چاہے تو اہل خانہ کچھ نہیں کر سکتے۔ یہ طے ہے کہ اہل خانہ نے ایسا کچھ نہیں کیا جس سے وہ اس بیماری میں مبتلا ہوا ہو لیکن وہ ایسا بہت کچھ کر سکتے ہیں جس سے وہ اس بیماری سے نکل آئے۔
* جس طرح کسی بھی مہک بیماری میں مبتلا شخص کو مرنے کیلئے بے سہارا چھوڑ دینا غیراخلاقی رویہ ہے اسی طرح نشے کے مریض کو بھی زندگی کی بازی ہارنے کیلئے تنہا چھوڑ دینا ظلم ہو گا۔
* نشے کی بیماری کا معقول علاج موجود ہے۔ چونکہ پاکستا ن میں یہ بیماری ’’نئی نئی‘‘ آئی ہے اس لئے اس کا معقول علاج ابھی عام نہیں ملتا، تلاش کرنا پڑتا ہے۔ معیاری علاج کے بعد مریض خوش و خرم اور بامقصد زندگی گزار سکتا ہے۔ ایسا کرنے کیلئے مریض کو نشہ کے بغیر خوش و خرم رہنے کی تربیت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ نشے کی بیماری کا جدید علاج امریکہ میں دریافت ہوا اور وہیں سے دنیا میں پھیل رہا ہے۔ صداقت کلینک میں یہی علاج رائج ہے۔

* نشے کے مریض سے ’’معاونت ‘‘ سے کیا مراد ہے؟
اہل خانہ اپنے خاص جذباتی رشتے کی وجہ سے مریض سے خصوصی رعایت اور نرمی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مریض ان کے اخلاق سے متاثر ہو کر نشہ چھوڑ دے۔ اہل خانہ کی مہربانیوں سے ایسے حالات بالکل نارمل نظر آتے ہیں لہذا وہ نشہ جاری رکھتا ہے۔ یہ صورت حال ’’معاونت‘‘ کہلاتی ہے۔ ’’معاونت‘‘ کرنے والے نہیں جانتے وہ لاشعوری طور پر مریض کی نشہ کرنے میں مد د کر رہے ہیں۔ یاد رکھیئے کہ مندرجہ ذیل رویے’’ معاونت ‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔
* مریض کی جگہ اس کی ذمہ داریاں نبھانا، لوگوں کے سامنے بہانے کرنا، اس کی بیماریوں کو راز بنانا اور ایسے موقعوں پر مریض سے دور رہنا جب نشے کے استعمال کی وجہ سے اسے شرمندگی کا سامنا ہو۔
* مریض کو نشے کیلئے رقمیں فراہم کرنا، اس کے کئے ہوئے نقصانات بھرنا، اس کے قرض چکانا، غیر قانونی حرکات کرنے ہوئے جب مریض پکڑا جائے تو اسے فوری طور پر رہائی دلانا۔
* مریض کو نشہ کرنے کے جواز تسلیم کرنا اور اس کے نشے کا الزام دوسرے لوگوں یا حالات پر دینا۔ جب مریض نشے میں دھت ہو تو اس کی حفاظت کی خاطر چوکیدارا کرنا۔ جب ’’معاونت‘‘ سے حالات اور بگڑ جاتے ہیں تو اکثر اہل خانہ ’’اشتعال‘‘ میں آ کر ’’سختیاں‘‘ کرنے لگتے ہیں۔


 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,