اہم سوال و جواب


* مریض پر ’’سختیوں ‘‘ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
تقریباً ہر مریض کے ساتھ آخر کا رسختی کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی انوکھی بات نہیں۔ جیسے بھی نشے کے مریض کے ساتھ رہنا پڑے اس کا اشتعال میں آنا لازم ہے۔ مریض پر سختیوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ نشہ ترک کر دے لیکن نتیجہ میں وہ نہ صرف زیادہ نشہ کرنے لگتا ہے بلکہ اپنے آپ کو حق بجانب بھی تصور کرنے لگتا ہے۔ سختی کے رویوں میں لعن طعن، مارپیٹ، رسیوں سے جکڑنا، کاروبار سے بے دخلی، عاق کرنا یا جیل بجھوانا وغیرہ شامل ہیں۔ ان سے معاملہ مزید بگڑ جاتا ہے۔

* نشے کی بیماری میں اصلاحی رویوں سے کیا مراد ہے؟
اہل خانہ کے ایسے رویے جن کے نتیجہ میں مریض نشہ ترک کرنے اور علاج کیلئے رجوع کرنے پر آمادہ ہوا، اصلاحی رویے کہلاتے ہیں۔ اصلاحی رویوں میں ہم مریض کو حدود کا پابند کرتے ہیں۔ اصلاحی رویے بظاہر مشکل اور عجیب نظر آتے ہیں لیکن جب معاونت اور اشتعال انگیزی سے حالات بگڑ جاتے ہیں تو ان کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔
* اصلاحی رویے غم و غصے اور مار پٹائی سے پاک ہوتے ہیں۔ غم و غصے سے نجات کیلئے نشے کی بیماری کو حقیقی طور پر بیماری تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اصلاحی رویوں میں ہم مریض پر اس کے عمل (نشہ) اور اس کے نتیجے (بربادی) کے درمیان گہرا تعلق ثابت کرتے ہیں۔ جب تک نشے کی بیماری پر آپ کا علم کافی نہ ہو مریض سے بحث و مباحثہ نہ کریں ایسا کرنے سے محض لڑائی جھگڑا بڑھے گا۔
* اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ صحت مند لوگ بھی اپنا قصور آسانی سے نہیں مانتے دوسرے پر الزام دیتے ہیں اور خود فریبی کے ذریعے اپنے دل کو بہلاتے ہیں۔ نشے کا مریض تو ان باتوں میں چیمپیئن ہوتا ہے۔ مریض سے تبادلہ خیال آسان نہیں ہوتا۔ اگر ہم اس کی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں تربیت کی ضرورت ہو گی۔
* مریض سے وعدے نہ لیں وعدے اس مریض کا علاج نہیں۔ علاج کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ ہفتہ دس دن کسی علاج گاہ میں رہنے سے مریض صحت مند ہو جاتا ہے اور لواحقین ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگتے ہیں۔ ایسا قطعی غلط ہے۔ اصل علاج مریض کی بیمار سوچوں کو بدلنا ہے۔ نشے کا جدید علاج امریکہ کی ریاست ’’مانا سوٹا‘‘ سے دنیا میں پھیلا ہے۔
* علاج کے بعد مریض کا چوکیدارا کرنے کی بجائے اسے علاج کے تقاضے پورے کرنے کیلئے کہیں۔ علاج کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ مریض ’’این اے‘‘ کی محفل میں روزانہ شرکت کرے۔ یہ ان لوگوں کی محفل ہوتی ہے جو نشہ چھوڑ کر خوشحال زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ علاج کے بعد مریض کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ’’فالواپ‘‘ پروگرام میں شرکت کرے۔
* مریض کے نشے کی مقدار کو کنٹرول کرنا چھوڑ دیں۔ نشے کی مقدار تو خود مریض بھی کنٹرول نہیں کر سکتا۔ ہاں! وہ نشہ مکمل چھوڑ سکتا ہے۔ مقدار کنٹرول کرنا کوئی علاج نہیں، محض چور سپاہی کا کھیل ہے۔
* مریض کو پھوکی دھمکیاں نہ دیں۔ جو کہیں اس پر عمل کر کے بھی دکھائیں اور جس پر عمل نہیں کرنا وہ نہ کہیں۔ مریض کے حالات دوسرے اہل خانہ تک پہنچائیں۔ بیماری کو راز نہ بنائیں۔ مریض کی ’’ تقسیم کرو اور نشہ کرو‘‘ کی پالیسی ناکام بنائیں۔ مریض کے تنہا تنہا معاملات طے کرنے کی بجائے تمام اہل خانہ مل کرقد م اٹھائیں۔ مریض کو موقع فراہم نہ کریں کہ وہ آپ کو نقصان پہنچائے۔
* مریض کے ان جوازات کو تسلیم نہ کریں کہ وہ حالات یا آپ کی وجہ سے نشہ کرتا ہے۔ نشے کی جو مقداریں مریض استعمال کرتے ہیں ان کی وجوہات بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہوتی ہیں۔ جب کسی نشہ کرنے والے کو نشے کی بیماری ہو جاتی ہے تب نشہ کرنے کیلئے اسے وجوہات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے بس زیادہ سے زیادہ نشے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کا جسم نشے کو ضائع کرتا ہے۔


 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,