اہم سوال و جواب


* ہر وقت مریض کے پیچھے نہ پڑے رہیں۔ طیش اور آنسو صرف صحت خراب کرنے کا نسخہ ہیں۔ آپ کے اذیت لینے سے مریض کا کوئی بھلا نہیں ہو سکتا۔ اگر اس کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ خالی برتن سے کسی کو کچھ نہیں دیا جا سکتا۔ دنیا داری، کاروبار اور زندگی کی گاڑی کو چلتا رکھیں۔
* ان والدین سے میل جول بڑھائیں جو نشے کی بیماری سے نمٹ رہے ہیں۔ مسائل ایک جیسے ہوں تو مل بیٹھنے سے کوئی نہ کوئی حل ضرور نکلتا ہے۔ امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک میں والدین نے ’’نار انان‘‘ (NAR-ANON) کے نام سے انجمنیں بنا رکھی ہیں جو مریضوں کی بحالی میں بہت مددگار ثابت ہوئی ہیں۔
* مریض کے حاصل کئے ہوئے قرضے ادا نہ کریں ۔ اس کے فرائض اپنے ذمہ نہ لیں۔ کاروبار اور خوشی غمی سے اس کی غیر حاضری پر بہانے نہ بنائیں۔ وہ نشے میں دھت ہو تو اس کی حفاظت کیلئے چوکیدارا نہ کریں۔ اس کی خاطر جھوٹ بولنے یا اپنی اخلاقی اقدار قربان کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ نشہ کرتے ہوئے پکڑا جائے تو ناجائز مدد نہ کریں۔ مریض کو اپنے اعمال کے نتائج بھگتنے دیں۔ بحران مریض کی اس خود فریبی کو توڑتا ہے۔
* خود اسے کوئی تکلیف نہ دیں لیکن جو تکلیفیں نشے کے باعث اس کی طرف بڑھیں ان کو اپنی جان پر نہ لیں۔ اگر نشے کا مزہ اسے پہنچے اور تکلیفیں آپ کو، تو وہ نشہ کیوں چھوڑے؟ صرف مریض ہی وہ واحد شخص ہے جو ان تکلیفوں سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے۔ جب آپ اس کے ذہن میں یہ بات بٹھانے میں کامیاب ہو جائیں کہ ہم نہیں بلکہ نشہ تمہاری تکلیفوں کا باعث ہے تو پھروہ ہم سے نہیں نشے سے نفرت کرے گا۔

* نشے کی بیماری میں علاج ہی کیوں ضروری ہے؟ کیا گھر پر روک تھام ممکن نہیں؟
مریض یا اہل خانہ کافی کوششیں پہلے ہی کر چکے ہوتے ہیں۔ کبھی تھوڑے وقت کیلئے کامیابی بھی مل جاتی ہے اور کبھی پہلے ہی دن ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ نشہ نہ کرنے کے وقفے دنوں پر محیط ہوں یا ہفتوں پر، یہ تو طے ہے کہ علاج کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ نشہ چھوڑ دینے کے بعد بھی بیماری ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اس کا دوسرا پہلو متحرک ہو جاتا ہے۔ نشہ چھوڑتے ہی یہ بیماری بے چینی، رنج اور غصے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ صورت حال بہتر ہونے سے پہلے بدتر ہوتی ہے۔ ان تکلیفوں کی شدت تو چند دن میں کم ہو جاتی ہے لیکن طبیعت سلگتی رہتی ہے۔ مریض علاج میں اس بدمزاجی سے نمٹنے کی تربیت حاصل کرتا ہے۔
نشے کے مریض کیلئے بحالی کا سفر تنہا طے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ایک ہمدرد معالج کے علاوہ بحالی کیلئے ایسے سازگار ماحول کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس میں اور لوگ بھی انہی مراحل سے گزر رہے ہوں۔ علاج کے بعد مریض کو این اے کی محفلوں میں شرکت کرنا ہوتی ہے۔ این اے کی محفلوں میں وہ آتے ہیں جو نشہ چھوڑے ہوتے ہیں۔ وہ نئے مریضوں کیلئے مشعلِ راہ ثابت ہوتے ہیں۔ ان محفلوں میں مریض کو تجربہ کار لوگوں سے راہنمائی ملتی ہے۔ انہی میں مریض کسی کو اپنا راہ نما چن سکتا ہے۔

* نشے کے مریض کا علاج نہ کیا جائے تو کیا ہوتا ہے؟
علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری سو فیصد جان لیوا ہے۔ بیماری کے علاوہ نشے کی حالت میں ہونے والے حادثات سے بھی زندگی خطرے میں رہتی ہے۔ کبھی مریض گھبرا کر خودکشی کے بارے میں سوچتا ہے اور کبھی ایسا کر گزرتا ہے۔ یاد رہے کہ ہم محض ایک بری عادت کے بارے میں نہیں بلکہ زندگی یا موت کے مسئلے پر بات کر رہے ہیں۔ کسی مہلک بیماری میں مبتلا شخص کو صرف اس لئے بے سہاراچھوڑ دینا ظلم ہو گا کہ وہ علاج پر آمادہ نہیں۔ علاج کیلئے کسی کا بیمار ہونا ہی کافی ہے اوراس کے بیمار ہونے میں کیا شک ہے؟


 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,