انٹروینشن۔۔۔ جب وہ مانتا نہیں!


تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ نشے کی بیماری کی حتمی ذمہ داری مریض پر ہی عائد ہوتی ہے کیونکہ نشہ اس نے خود ہی شروع کیا تھا۔ آپ نے کبھی ایسا کچھ نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ اس بیماری میں مبتلا ہوا ہو لیکن اگر آپ چاہیں تو اسے نشے سے نجات دلانے میں بھرپور کردار انجام دے سکتے ہیں۔

علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ نشے کے مریض کی خود فریبی ہے۔ یہ خود فریبی مریض کو اپنے اصل حالات پر نظر ڈالنے کی اجازت نہیں دیتی۔ نشہ مریض کی شخصیت کو مسخ کرتا ہے۔ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہونے کے باوجود اس کا اطمینان قابل دید ہوتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ مریض جھوٹ بول رہا ہے حالانکہ مریض کو واقعی اپنے حالات کا شعور نہیں ہوتا۔ نشہ اسے حالات کی سنگینی کا احساس ہی نہیں ہونے دیتا۔ دوسری طرف جب تک مناسب علاج نہیں ہو گا نشے کی بیماری بڑھتی رہے گی۔ نشے کی بیماری میں قدم قدم پر جان لیوا حادثات ہوتے ہیں اس لئے انتظار کی بجائے فوری علاج ضروری ہے۔

نشے کی طلب مریض کے حواس پر اس طرح چھائی رہتی ہے کہ وہ ازخود مدد کا طلب گار نہیں ہوتا، بلکہ ہمیشہ نشے کا طلب گار رہتا ہے۔ دراصل نشے کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے وہ حالات کی اصل تصویر دیکھ ہی نہیں سکتا۔ سب حیران ہوتے ہیں کہ جو کچھ مریض کرتا ہے اس کا سب سے زیادہ نقصان مریض کو ہی پہنچتا ہے، پھر بھی وہ اپنا بچاؤ کیوں نہیں کرتا؟ حد تو یہ ہے کہ جب کوئی اسے علاج کا مشورہ دیتا ہے تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ دراصل نشے کی جو مقداریں وہ عرصہ دراز تک استعمال کرتا رہا ہے وہ دماغ خراب کرنے کیلئے کافی ہوتی ہیں۔ اس کے بگڑے ہوئے حالات صاف نظر آتے ہیں، جب کہ مریض دعویٰ کرتا ہے کہ ابھی تو کچھ بھی نہیں بگڑا۔ اسے جلدی کاہے کی ہے؟ کوئی تعجب نہیں کہ وہ اپنے علاج کو ٹال سکتا ہے۔ علاج کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اہل خانہ کی لاعلمی ہے۔ یہ بھی خود فریبی کی ایک شکل ہے۔ اس سے علاج میں سالوں کی تاخیر ہو جاتی ہے۔ گھر میں نشے کے مریض سمیت سبھی اذیت سے گزر رہے ہوتے ہیں لیکن اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ معاملہ زیادہ سنجیدہ نہیں ہے اور آہستہ آہستہ خود ہی حالات درست ہو جائیں گے۔ جب ہم نشے کی بیماری کے بارے میں کچھ نہیں کرتے تو وہ بڑھتی ہی رہتی ہے۔ حقائق جان لینے پر اہل خانہ مثبت قدم اٹھانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

آپ اپنے پیارے میں نشے کی بیماری بروقت کیوں نہ دیکھ سکے؟ کیا اس میں نشے کی بیماری کی کافی علامتیں موجود نہ تھیں؟ کیا وہ آپ کو سرخ سگنل نہیں دے رہا تھا؟ کیا آپ دوسرے کاموں میں الجھے ہوئے تھے؟ کیا وہ سب کچھ چھپانے میں کامیاب رہا؟ یا اپنے پیارے کو نشئی تصور کرتے ہوئے آپ کا دل دکھتا تھا اور آپ اپنی توجہ اس معاملہ سے ہٹا لیتے تھے؟ اہل خانہ نشے کی بیماری کے ساتھ کئی سال گزارنے کے بعد بھی اسے پہچان نہیں پاتے۔ ایسا اس لئے ہے کہ انسانی دماغ ناخوشگوار واقعات سے توجہ ہٹانے کی باکمال صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ صلاحیت ہر شخص میں ہوتی ہے۔ عام حالات میں یہ سب چلتا ہے۔ تاہم جب ہر طرف بکھرے ہوئے شواہد کے باوجود اہل خانہ سمجھتے ہیں کہ سب خیر ہے، نشے کی بیماری اس میں پلتی رہتی ہے۔ اگرآپ ایسا ہی کرتے رہے ہیں تو اس میں کوئی انوکھی بات نہیں۔ ایسے حالات میں عام ردِعمل یہی ہوتا ہے۔ زلزلوں کی پٹی پر رہنے والے لوگ ہر وقت جھٹکوں کیلئے تیار رہتے ہیں۔ وہ اپنا طرز زندگی اسی سانچے میں ڈھال لیتے ہیں۔ کسی نشے کے مریض کے ساتھ رہنا بھی ایسے ہی ہے لیکن یہاں ہم بے بس نہیں۔ خود بدل جانے کی بجائے ہم مریض کو بدل سکتے ہیں بشرطیکہ ہم پہلے حقائق کو پہچانیں، نشے کی بیماری کو سمجھیں اور اپنے پیارے کو جامع علاج مہیا کریں۔

نشے کی بیماری میں مریض سے ایسی حرکات سرزد ہوتی ہیں جنہیں اخلاقی پیمانے پر گھٹیا اور مجرمانہ قرار دیا جا سکتا ہے لیکن حقیقت میں یہ بیماری کی علامات ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسا کہ دوسری بیماریوں میں قے یا بخار وغیرہ۔ مریض کی خودفریبی، مزاج کا اتار چڑھاؤ، روئیے میں پل پل آنے والی تبدیلیاں، جھوٹ، دھوکا، بھلکڑپن اور فرائض سے لاپرواہی بھی اس بیماری کی چند علامتیں ہیں۔ محض سزا یا جزاء، بے جا نکتہ چینی یا بے جا تعریف سے مریض میں کوئی دیرپا تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ آنسوؤں اور طیش کا طریقہ بھی کبھی کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ کسی مریض کو نشہ چھوڑنے کا خیال تب ہی آتا ہے جب اُسے نشے سے کوئی تکلیف پہنچے۔ اہل خانہ فطری محبت کے باعث نشے سے پیدا ہونے والی تکلیف مریض تک پہنچنے نہیں دیتے۔ نشے کا مزہ بدستور اس تک پہنچتا رہتا ہے۔ اسی لئے وہ نشہ ترک کرنے کا فیصلہ نہیں کر پاتا۔ یہ خیال غلط ہے کہ مریض نہ چاہے تو اہل خانہ کچھ نہیں کر سکتے۔ یہ طے ہے کہ اہل خانہ نے ایسا کچھ نہیں کیا جس سے وہ اس بیماری میں مبتلا ہوا ہو لیکن وہ ایسا بہت کچھ کر سکتے ہیں جس سے وہ اس بیماری سے نکل آئے۔

 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,