پروسس انٹروینشن۔۔۔ جب وہ مانتا نہیں!


انٹروینشن اور اہل خانہ کے ایسے رویے جن کے نتیجے میں مریض نشہ ترک کرنے اور علاج کیلئے رجوع کرنے پر آمادہ ہو، اصلاحی رویے کہلاتے ہیں۔ اصلاحی رویوں میں ہم مریض کو حدود کا پابند کرتے ہیں۔ اصلاحی رویے بظاہر مشکل اور عجیب نظر آتے ہیں لیکن جب معاونت اور اشتعال انگیزی سے حالات بگڑ جاتے ہیں تو ان کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ اصلاحی رویے غم وغصے اور مار پٹائی سے پاک ہوتے ہیں۔ غم وغصے سے نجات کیلئے نشے کی بیماری کو حقیقی طور پر بیماری تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اصلاحی رویوں میں ہم مریض پر اس کے عمل (نشہ) اور اس کے نتیجے (بربادی) کے درمیان گہرا تعلق ثابت کرتے ہیں۔ جب تک نشے کی بیماری پر آپ کا علم کافی نہ ہو مریض سے بحث و مباحثہ نہ کریں ایسا کرنے سے محض لڑائی جھگڑا بڑھے گا۔

اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ صحت مند لوگ بھی اپنا قصور آسانی سے نہیں مانتے دوسرے پر الزام دیتے ہیں اور خود فریبی کے ذریعے اپنے دل کو بہلاتے ہیں۔ نشے کا مریض تو ان باتوں میں چیمپئن ہوتا ہے۔ مریض سے تبادلہ خیال آسان نہیں ہوتا۔ اگر ہم اس کی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں تربیت کی ضرورت ہو گی۔

مریض سے وعدے نہ لیں کیونکہ وعدے اس مرض کا علاج نہیں۔ اصل علاج مریض کی بیمار سوچوں کو بدلنا ہے۔ مریض کا چوکیدارا کرنے کی بجائے اسے علاج کے تقاضے پورے کرنے کیلئے کہیں۔ مریض کے نشے کی مقدار کو کنٹرول کرنا چھوڑ دیں۔ نشے کی مقدار تو خود مریض بھی کنٹرول نہیں کر سکتا۔ ہاں! وہ نشہ مکمل چھوڑ سکتا ہے۔ مقدار کنٹرول کرنا کوئی علاج نہیں، محض چور سپاہی کا کھیل ہے۔

مریض کو پھوکی دھمکیاں نہ دیں۔ جو کہیں اس پر عمل کر دکھائیں اور جس پر عمل نہیں کرنا وہ نہ کہیں۔ مریض کے حالات دوسرے اہل خانہ تک پہنچائیں۔ بیماری کو راز نہ بنائیں۔ مریض کی ’’تقسیم کرو اور نشہ کرو‘‘ کی پالیسی ناکام بنائیں۔ مریض کے معاملات تنہا طے کرنے کی بجائے تمام اہل خانہ مل کر قدم اٹھائیں۔ مریض کو موقع فراہم نہ کریں کہ وہ آپ کو نقصان پہنچائے۔ مریض کے ان جوازات کو تسلیم نہ کریں کہ وہ حالات یا آپ کی وجہ سے نشہ کرتا ہے۔ نشے کی جو مقداریں مریض استعمال کرتے ہیں ان کی وجوہات بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہوتی ہیں۔ جب کسی نشہ کرنے والے کو نشے کی بیماری ہو جاتی ہے تب نشہ کرنے کیلئے اسے وجوہات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے بس زیادہ سے زیادہ نشے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کا جسم نشے کو زہریلا بنا دیتا ہے اور تیزی سے ضائع کرتا ہے۔

ہر وقت مریض کے پیچھے نہ پڑے رہیں۔ طیش اور آنسو صرف صحت خراب کرنے کا نسخہ ہے۔ آپ کے اذیت لینے سے مریض کا کوئی بھلا نہیں ہو سکتا۔ اگر اس کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ خالی برتن سے کسی کو کچھ نہیں دیا جا سکتا۔ دنیاداری، کاروبار اور زندگی کی گاڑی کو چلتا رکھیں۔

اگلا صفحہ

 

Contact Us

Got a question ? Write it down, right here; and we will reply within 24 hours.


Dear Dr. Sadaqat Ali,