نوجوانوں میں بھانگ کے استعمال میں بڑھتے ہوئے اضافہ کی وجہ حسِ مزہ اور زیادہ انعام حاصل کرنے کی خوشی محسوس کرنا ہے۔

حسِ مزہ کو انعام پانے کی حساسیت سے منسلک کیا جاتا ہے جسے جوش وخروش محسوس کرنے سے بھی تشبہیہ دیتے ہیں جو کہ نوجوانوں میں حساسیت محسوس کرنے اور اسکا تجربہ کرنے کو بیان کرتا ہے۔ وہ لوگ جن میں حسِ مزہ کو محسوس کرنے کی جستجو ہوتی ہے ان میں منشیات کے استعمال کا انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔

تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ بھانگ کا استعمال انعام حاصل کرنے کی خوشی سے منسلک ہے۔ انعام حاصل کرنے کی حساسیت ان لوگوں کی شخصیت کا پہلو ہے جو مختلف تقریبات میں اسے پانے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق میں چار ہزار نوجوانوں کو لمبے عرصے کے لئے شامل کیا اور انعام پانے کی حساسیت کا مشاہدہ کیا۔ انعام پانے کی حساسیت کو لابرٹری میں گو۔نو۔گو ٹاسک کے ذریعے جانچا گیا۔ نوجوانوں کو ہدایت دی گئی کہ انعام حاصل کرنے کے لیے کب انھیں کاروائی کرنا ہے اور کب انھیں رکنا ہے تاکہ سزا سے بچا جا سکے۔ اس تحقیق کے نتائج سے یہ پتا چلا کہ لڑکوں میں لڑکیوں کے بہ نسبت انعام حاصل کرنے کی حساسیت اور حسِ مزہ محسوس کرنے کی جستجو زیادہ ہوتی ہے۔ تحقیق کے نتائج یہ تجویز کرتے ہیں کہ نوجوانوں کو نفسیاتی مداخلتی پروگرام فراہم کرنے سے ان میں حسِ مزہ اور انعام حاصل کرنے کی حساسیت پر قابو پایا جا سکتا ہے اور بھانگ استعمال کرنے کی مقدار میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ وقتی طور پر اثر انداز ہو کیونکہ نوجوان اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ بانگ کا استعمال کرنا نقصان دہ نہیں ہے جب کہ بڑھتے ہوئے شواہد اس بات کو واضح کر رہے ہیں کہ بھانگ کا استعمال دماغی نشوونما اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔

ذرائع: Medical News today