وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ قصور واقعہ پر ہر آنکھ اشکبار اور دل گرویدہ ہے‘صرف قرار داد کی منظوری سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ٗ جب تک ہم سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اقدامات نہیں اٹھائیں گے ایسے واقعات کا سدباب نہیں ہوگا ٗ ہمیں قانون سازی کے ذریعے ایسے بنیادی ایشوز کو زیر غور لانا چاہیے ۔ جمعہ کو قومی اسمبلیمیں سانحہ قصور پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ

ایک ماں ہونے کی حیثیت سے اس واقعہکی مذمت کرتی ہوں ٗ اس واقعہ پر ہم پاکستان اور ایوان کے ارکان شرمندہ ہیں‘ پاکستان میں ہر آنکھ اشکبار اور دل گرویدہ ہے‘ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ سعودی عرب یا کسی دوسرے ملک میں ایسے واقعات ہوئے‘ ہمارا مدعا یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے واقعات نہیں ہونے چاہئیں ٗجب تک ہم سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اقدامات نہیں اٹھائیں گے ایسے واقعات کا سدباب نہیں ہوگا ٗ

جس جس صوبے سے ایسے واقعات کی آواز آئے ہمیں اپنی حکومتوں کے حق میں دلائل نہیں دینے چاہئیںٗ تمام صوبوں میں تمام جماعتوں کی حکومت ہے ٗیہ موضوع کسی ایک صوبے میں بھی نصاب کا حصہ نہیں بنایا گیا آج ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر کلاس اول سے لے کر دسویں جماعت تک اس طرح کے معاشرتی مسائل کو شامل کرنا ہوگا ٗصرف قرارداد کی منظوری سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ٗ

اگر نصاب میں روایتی یا غیر روایتی تعلیم کے مسائل کے حوالے سے تبدیلی لانے کی بات قرارداد میں شامل نہیں ہوگی تو قرارداد بے معنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ علماء کو مساجد کے اندر ان مسائل پر بات کرنی چاہیے۔ علماء اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ نے اس معاملے کو کوریج دی جو اچھی بات ہے تاہم ملک میںخوف و ہراس کی صورت کا بھی تدارک ہونا چاہیے ٗ

انہوں نے کہا کہ نصاب تعلیم کے ساتھ ساتھ موجودہ لیگل سسٹم پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی ٗ ہمیں قانون سازی کے ذریعے ایسے بنیادی ایشوز کو زیر غور لانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کے مرتکب درندوں کو عبرناک سزا دی جانی چاہیے۔ حکومت پنجاب اس حوالے سے اقدامات اٹھا رہی ہے ہم میں سے ہر ایک کو اپنی انفرادی ذمہ داری کابھی احساس کرنا ہوگا۔ مدارس کے نصاب میں بھی اس حوالے سے تبدیلیاں لانا ہوں گی۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ حلقوں کی سطح پر ایسے واقعات کے سدباب کے لئے منشور میں بھی ان باتوں کو شامل کریں۔ قبل ازیں قصور واقعہ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ ایسے واقعات ہمارے معاشرے کا معمول بن چکے ہیں۔ قصور کا واقعہکوئی نیا نہیں ہے۔ اس شہر میں اس قسم کے 12 مقدمات رجسٹرڈ ہو چکے ہیں

جن پر قصور پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ پنجاب بڑا صوبہ ہے مگر ایسے واقعات صرف پنجاب میں نہیں ڈی آئی خان سمیت پورے ملک میں ہو رہے ہیں۔ جب تک جزا و سزا کا عمل نہیں ہوگا واقعات نہیں رکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے عالمی سطح پر ہماری بدنامی ہو رہی ہے۔ زینب ہماری بچی ہے‘ ہماری ہمدردیاںاس کے خاندان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ڈی آئی خان واقعہ کے 9 ملزم پکڑے گئے ہیں

مگر انہیں سزا کون دیگا ٗ ایسے واقعات کے مرتکب افراد کو سرعام لٹکانے کی سزا دینے کے لئے قانون سازی کی جائے۔ اگر ایسا کیا گیا تو آئندہ کوئی جرات نہیں کرے گا۔ عریانی اور فحاشی کے حوالے سے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر جاری سیلاب کو نہ روکا گیا توایسے واقعات میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس ایوان کو قانون سازی کرکے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

تمام صوبائی وزراء اعلیٰ کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ مظاہرین پر گولی چلانے کا جس نے حکم دیا اس کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اسلامی تعلیمات سے انحراف اور سودی نظام کی وجہ سے ہماری پکڑ ہو رہی ہے۔ اگر واقعہ کے مرتکب ملزمان کو کیفر کردار تک نہپہنچایا گیا تو عوام میں مایوسی پھیل جائے گی۔جمعیت علماء اسلام (ف) کی رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور خان نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ اور یورپ میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں ‘ دیکھنے کی یہ بات ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی اور اسلامی ملک ہے۔

یہاں ایسے واقعات کا رونما ہونا ہمارے منہ پر طمانچہ ہے۔ اگر سو سے زائد بچیوں کو زیادتی کے بعد تیزاب کے ذریعے ختم کرنے والےجاوید اقبال نامی شخص کے واقعہ سے سبق حاصل کیا جاتا تو ایسے واقعات کو روکا جاسکتا تھا۔ اگر ڈی آئی خان میں خاتون کو برہنہ کرنے اور ایبٹ آباد میں لڑکی کو زندہ جلانے کے واقعہ کا صحیح معنوں میں نوٹس لے لیا جاتا تو شاید ایسے واقعات رونما نہ ہوتے۔

اللہ نے ایسے جرائم پر قرآن حکیم میں سزائیں مقرر کی ہیں۔ آج ہر کوئی سرعام پھانسی کی بات کرتا ہے مگر جب ہم حدود لاگو کرنے کیبات کرتے تھے تو ہم پر الزام تراشی شروع کردی جاتی۔ جب تک ہم اسلامی قانون سازی نہیں کریں گے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ قرآن و سنت کے تحت قانون سازی کے ذریعے ہی ایسے جرائم کا سدباب ممکن ہے۔ قوانین پر عملدرآمد بھی ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ رسم و رواج کی وجہ سے نکاح مشکل اور زنا آسان ہوگیا ہے۔ اس قسم کے سماجی مسائل کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔ہم سب کو زینب کو اپنی بچی سمجھ کر سوچنا ہوگا۔ جب تک قوانین کا نفاذ اور ان پر عملدرآمد نہیں ہوگا اس طرح کے واقعات کا ارتکاب ہوتا رہے گا۔قصور واقعہ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کشور زہرہ نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران 12 بچیوں کے ساتھ واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

دو کلو میٹر کے علاقے میں ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں صاف ظاہر ہے کہ وہاں کوئی ایسا عادی مجرم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کے سدباب کے لئے حکومت کی طرف سے شعور اجاگر کرنے کے پروگرام شروع کئے جائیں۔اس حوالے سے نصاب تعلیم میں تبدیلیاں کی جائیں۔ ریاست کو عوامی مسائل پر توجہ دینی ہوگی۔ ہماری بات کو سیاسی تنقید نہ سمجھا جائے بلکہ ہمیں اپنی غلطیوں کو تسلیم کرکے آگے بڑھنا ہوگا۔

قوانین کا نفاذ اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے انتہائی سنجیدگی سےاقدامات اٹھانے ہوں گے۔قبل ازیں قومی اسمبلی میں قصور کے سانحہ کو زیر بحث لانے کے لئے وقفہ سوالات اور ایجنڈے کی کارروائی معطل کی گئی۔ قومی اسمبلی میں سپیکر سردار ایاز صادق نے بتایا کہ ہائوس بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں فیصلہ ہوا کہ قصور کے واقعہ پر وقفہ سوالات اور دیگر بزنس معطل کرکے اسے زیر بحث لایا جائے۔

شیخ آفتاب احمد نے تحریک پیش کی کہ وقفہ سوالات اوردیگر بزنس معطل کیا جائے۔ سپیکر نے تحریک ایوان میں پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دے دی۔ ریاض پیرزادہ نے تحریک پیش کی کہ قصور میں معصوم بچی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کو زیر بحث لایا جائے۔

Courtesy: جاوید چودھری ڈاٹ کام