Courtesy: اردوپوانٹ

چار افراد نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کر کے سیلزمین کو اغوا کر کے مار پیٹ کا نشانہ بنایا اور پھر اُس سے دو لاکھ بیس ہزار اماراتی درہم کی رقم لُوٹ لی۔ تفصیلات کے مطابق مئی2018ء کے دوران 32 سالہ بھارتی سیلزمین کو اُس کی کمپنی کے مینجردو لاکھ بیس ہزار درہم بینک میں جمع کروانے کے لیے دیئے۔ سیلز مین نے رقم بیگ میں ڈالی اور پھر اپنے گھر چلا گیا۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب وہ بینک جانے کے لیے گھر سے نکلا۔ جونہی وہ اپنی کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔ اچانک کہیں سے چار افراد آن دھمکے اور اُسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر جا کر بیٹھنے کو کہا۔ جب سیلزمین نے اُن سے وجہ پُوچھی تو انہوں نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کیا۔ اُن کی بات سُن کر بھارتی سیلزمین گاڑی کی پچھلی سیٹ پر جا بیٹھا ۔ اس کے بعد چاروں آدمی گاڑی میں بیٹھ گئے۔

ان میں سے ایک نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی اور گاڑی چلانے لگا۔ خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرنے والوں کی دیدہ دلیری دیکھ کر سیلزمین نے اُن سے پولیس ڈیپارٹمنٹ کے شناختی کارڈ دکھانے کو کہا جس پر ایک شخص نے اُسے اچانک مُکّا رسید کیا اور پھر اُس سے موبائل فون چھین لیا۔ چاروں افراد اُسے شارجہ لے گئے‘ جہاں ایک جگہ گاڑی روک کر اُسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پیسوں سے بھرا بیگ چھین کر وہ فرار ہو گئے۔

سیلزمین نے اس وقوعے کی اطلاع پولیس کو دی۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں پتا چلا کہ واردات میں ملوث چار افراد میں سے ایک شخص پاکستانی‘ ایک اماراتی جبکہ باقی دو بھارتی تھے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اماراتی شخص اور دونوں بھارتیوں کو گرفتار کر لیا جبکہ پاکستانی ملزم تاحال مفرور ہے۔ استغاثہ کی جانب سے ملزمان پر خود کو پولیس اہلکار ظاہر کر کے دھوکا دہی کا مرتکب ہونے‘ سیلز مین کو زبردستی اغوا کرنے اور دو لاکھ بیس ہزار درہم کی رقم کے علاوہ موبائل فون اور بٹوہ چھیننے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ملزمان نے عدالت کے رُوبرو اپنے جُرم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ مُدعی سیلزمین نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان اُسے اغوا کر کے شارجہ کے ملیحہ روڈ پر لے گئے۔ دُوسری جانب اماراتی ملزم نے اپنی صفائی میں کہا کہ وہ بذاتِ خود تین کمپنیوں کا مالک ہونے کے باعث خوش حال اور دولت مند ہے۔ اُسے رقم چوری کرنے کی بھلا کیا ضرورت تھی۔ اماراتی ملزم نے عدالت سے درخواست کی کہ اُس کی بیماری کو پیش نظر رکھتے ہوئے اُسے ضمانت دی جائے۔ پریزائیڈنگ جج الشمسی نے مقدمے کی سماعت 19 ستمبر 2018ء تک ملتوی کر دی ہے۔