Courtesy: اردوپوانٹ

سعودی سرکاری استغاثہ نے مملکت میں مقیم شہریوں اور غیر مُلکیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر کسی شخص نے انسانی اسمگلنگ کے جُرم کا پتا ہونے کے باوجود اس بارے میں متعلقہ حکام کو اطلاع نہ دی تو اُسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔ اس قانون کا اطلاق اُن لوگوں پر بھی ہوگا جنہیں اُن کے مالکان نے اُن کے کانٹریکٹ میں پابند کیا ہو گا کہ وہ دفتری اطلاعات و معلومات کو افشا نہیں کریں گے۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

انسانی سمگلنگ کی اطلاع نہ دینے پر کسی شخص سے کوئی رُو رعایت نہیں برتی جائے گی۔ اس غفلت پر مبنی جُرم کے ارتکاب کی صورت میں متعلقہ شخص کو 2 برس قید کی سزا سُنائی جائے گی یا ایک لاکھ ریال بطور جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔ جبکہ بعض صورتوں میں یہ دونوں سزائیں اکٹھی بھی سُنائی جا سکتی ہیں۔

پبلک پراسیکیوشن نے ٹویٹر کے اکاؤنٹ پر توجہ دلائی ہے کہ اگر کسی شخص کو اپنے ادارے، مالک کے گھر یا کسی اور مقام پر انسانی اسمگلنگ کی غیر قانونی سرگرمی کی خبر ہو تو وہ تمام پیشہ ورانہ اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر متعلقہ حکام کو اس بارے میں اطلاع دینے کا پابند ہو گا۔

کیونکہ کوئی بھی دفتری ضابطہ مُلکی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ اور اس نوعیت کی غفلت کے مُرتکب فرد کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے سعودی مملکت نے پبلک پراسیکیوشن کی مزید شاخیں کھولنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انسانی سمگلنگ کے مسئلے سے مزید بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔ اس بات کا اعلان سعودی پبلک پراسیکیوٹر شیخ سعود المعجب نے کیا۔ سعودی حکومت نے 21 رجب 1430ھ کو انسدادِ انسانی اسمگلنگ کا قانون جاری کیا تھا جو کہ 17 دفعات پر مشتمل ہے۔ اس قانون میں انسانی اسمگلنگ کی بہت سی صورتوں کا بیان کر کے اُن پر عائد ہونے والی سزاؤں کا بھی تفصیلی ذکر ہے۔