فیس بک نے اپنے 2 آرٹی فیشل انٹیلی جنس چیٹ بوٹ اس وقت شٹ ڈاﺅن کردیئے جب انہوں نے آپس میں ایسی زبان میں بات چیت شروع کردی جو صرف وہی سمجھ سکتے تھے۔ ان دونوں چیٹ بوٹس کو انگلش زبان سیکھائی گئی تھی مگر انہوں نے اپنی نئی زبان تخلیق کرکے ایک دوسرے سے چیٹ کی جو کہ ان افراد کے لیے بھی پراسرار ثابت ہوئی جو ان کی نگرانی کا کام کررہے تھے۔ ان دونوں چیٹ بوٹس کے درمیان کسی معاملے پر مذاکرات شروع ہوئے مگر جلد ہی وہ ایک دوسرے پر ایسی زبان میں چیخنے چلانے لگے جو انسانوں کی سمجھ سے باہر تھی۔ ماہرین کے مطابق ان چیٹ بوٹس نے انگلش زبان کے قواعد میں ہی تبدیلیاں کرکے اپنے لیے نئی زبان تخلیق کرلی اور عجیب زبان میں ایک دوسرے سے کامیاب مذاکرات کرتے رہے۔

ان چیٹ بوٹس نے مذاکرات کا وہ طریقہ بھی سیکھا جو کہ کافی زیادہ انسانی لگتا ہے اور وہ ایک مخصوص چیز میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے نظر آئے۔ فیس بک آرٹی فیشل انٹیلی جنس ریسرچ ڈویژن کیجانب سے جاری مقالے کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آرٹی فیشل ٹیکنالوجی زبانوں کی نئی اقسام ایجاد کرسکتی ہے۔ اس سے قبل رواں سال کے شروع میں گوگل نے انکشاف کیا تھا کہ اے آئی کو ٹرانسلیشن ٹول کے طور پر استعمال کرکے نئی زبان کو تخلیق کیا جاسکتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس نئی زبان کی تشکیل کی حوصلہ افزائی کرسکتی ہے اور اس طرح خود کو زیادہ موثر اور بات چیت کو بہتر بناسکتی ہے۔ تاہم فیس بک چیٹ بوٹ میں آنے والی تبدیلی اتنی حیران کن تھی کہ کمپنی کو انہیں کام کرنے سے روکنا پڑا تاکہ اس کی وجہ جانی جاسکے۔

Courtesy: ڈان نیوز