Courtesy: ڈیلی پاکستان

’پاک سرزمین شاد باد‘‘ پاکستان کا وہ قومی ترانہ ہے جسے آپ سنتے ہی ہوں گے اور یہ بھی جانتے ہوں گے کہ یہ قومی ترانہ حفیظ جالندھری نے لکھااور 1954میں منظوری کے بعد یہ سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور اہم مواقع کے علاوہ سکولوں کالجوں کی تقریبات کے بعد سینماوں میں بھی سازو آواز کے ساتھ فلم کے شروع ہونے سے پہلے چلایا جانے لگاتھا ۔ یہ روایت کم و بیش اسی طرح جاری و ساری ہے ۔آپ کے لئے یہ بات انتہائی حیران کن ہوگی کہ قومی ترانہ تو قیام پاکستان کے آٹھ سال بعد سنا جانے لگا تھا لیکن پاکستانی سینماوں میں ہر فلم سے پہلے بھی ایک ملی ترانہ بطور روایت قومی ترانہ سمجھ کر سنایا جاتا تھا جس میں کوئی ساز شامل نہیں تھا نہ اسکی دھن کسی معروف موسیقار نے دی تھی ۔یہ ملی نغمہ اردو کے معروف شاعر ساغر صدیقی نے اپنی پُرسوز آواز میں گایا تھا ۔اسکو اس وقت کے معروف فلمی رائٹر،پروڈیوسر، ایکٹر و شاعر نعیم ہاشمی نے لکھا تھا ۔یہ وہی نعیم ہاشمی ہیں جن کی معروف ترین نعت ’’ شاہ مدینہ ،یثرب کے والی ،سارے نبی تیرے در کے سوالی ‘‘ کئی فلموں میں بطور قوالی بھی گائی جاچکی ہے اور موجودہ دور میں بھی یہ نعت شریف اپنی مقبولت میں سب سے نمایاں ہے ۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

سینئر صحافی و محقق عارف وقار کے مطابق پاکستان کا قومی ترانہ تو 1954 میں تیار ہوا تھا لیکن اس سے پہلے چھ سات برس تک سنیما گھروں میں جو ترانہ گونجا کرتا تھا وہ یہ تھا سلام اے قائدِاعظم تِری عظمت ہے پائندہ

ترا پرچم ہے تابندہ، ترا پیغام ہے زندہیہ مِلّی نغمہ نعیم ہاشمی نے اپنی فلم انقلابِ کشمیر کے لئے لکھا تھا اور اسے کسی مشہور سِنگر نے نہیں بلکہ اردو کے درویش صفت شاعر ساغر صدیقی نے گایا تھا۔ساغر صدیقی اردو شاعری کا بڑا نام تھے ۔ان کے بہت سے اشعار معروف عام ہیں جیسا کہ یہ معروف شعر ’’جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں‘‘ ساغر صدیقی کا لکھا ہوا ہے۔واجبی تعلیم کے بعد ساغرصدیقی لکڑی کی کنگھیاں بنانے کے پیشے سے وابستہ تھے لیکن جب مقدر نے ساتھ دیا تو جوانی میں ہی اپنی شاعرانہ طبیعت سے بڑوں میں شمار ہونے لگے۔قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور میں آگئے تو فلموں میں نغمات لکھ کر مقبولیت کا ریکارڈ قائم کردیا ۔اسی دور میں انہوں نے مذکورہ ملی نغمہ بھی گایا تھا ۔ لیکن جوانی میں ہی انہیں نشہ کی لت پڑگئی اور لاہور کی سڑکوں پر پھٹے پرانے بوسیدہ گندے کپڑ وں میں دوستوں سے ایک ایک چونی مانگ کر نشہ کے لئے پیسے اکٹھے کرتے نظر آنے لگے تھے۔اسی حالت میں ایک بار صدرایوب خان نے ساغر صدیقی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو ساغر صدیقی نے ان سے ملنا پسند نہ کیا تھا ۔ہمہ وقت نشہ میں غرق رہ کر وہ چھیالیس سال کی عمر میں وفات پاگئے تھے۔ ان کا گایا ہوا پہلا غیر سرکاری ملی ترانہ بھی قوم بھول چکی ہے ۔اور غالباً کسی آرکائیو مین موجود نہیں۔