Courtesy: ڈان نیوز

اچھی صحت کے لیے جسمانی فٹنس ضروری ہوتی ہے مگر آپ کس حد تک فٹ ہیں؟اس کا فیصلہ کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ درحقیقت اس کے لیے کسی ماہر کی ضرورت نہیں بلکہ کچھ روزمرہ کے پیمانوں کی مدد سے یہ جانا جاسکتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ آپ جسمانی طور پر خود کو فٹ نہ سمجھتے ہوں مگر ہوسکتا ہے کہ آپ صحت مند ہوں اور اس کا احساس نہ ہو، جس کی علامات درج ذیل ہیں۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

دل کی دھڑکن
جسمانی طور پر صحت مند افراد کی دل کی دھڑکن کی رفتار کچھ سست ہوتی ہے، ایسے افراد کا دل زیادہ موثر طریقے سے پمپ کرتا ہے۔ صبح اٹھ کر دل کی دھڑکن کی رفتار چیک کریں، عام طور پر دل کی دھڑکن کی معمول کی رفتار 60 سے 100 فی منٹ ہوتی ہے، اگر یہ نمبر اس سے زیادہ ہوں تو یہ ہائی بلڈپریشر، امراض قلب یا دیگر مسائل کا اشارہ ہوسکتا ہے۔

چہل قدمی میں دوستوں سے پیچھے نہ رہنا
کیا آپ اپنے ساتھیوں کی رفتار کا ساتھ دے پاتے ہیں؟ مناسب رفتار میں چہل قدمی، جاگنگ یا سیڑھیاں چڑھنے میں؟ اگر تو کچھ دیر تیز چلنے یا سیڑھیاں چڑھنے پر سانس بری طرح پھول جاتا ہے تو آپ ممکنہ طور پر جسمانی طور پر فٹ نہیں۔ اگر سانس کی رفتار کنٹرول پر رہتی ہے اور آپ اسے دوستوں کے ساتھ بھی قابو میں رکھتے ہیں تو آپ اپنے خیال سے زیادہ بہتر جسمانی ساخت کے حامل ہیں۔

بہتر ریکوری ٹائم
طبی ماہرین کے مطابق اپنے ریکوری ٹائم پر توجہ دیں، اگر جسمانی سرگرمیوں کے بعد دل کی دھڑکن کی رفتار 5 منٹ سے کم وقت میں معمول پر آجاتی ہے تو آپ جسمانی طور پر اچھی شیپ میں ہیں۔ ریکوری کا یہ وقت جتنا تیز ہوگا اتنے ہی زیادہ آپ فٹ ہوں گے۔ کسی قسم کی جسمانی سرگرمی جیسے ورزش کے بعد اپنے دل کی دھڑکن کو دیکھیں اور دیکھیں کتنی دیر میں وہ معمول پر آتی ہے۔

ورزش کے عادی
چاہے کچھ زیادہ سخت ورزش نہ بھی کرتے ہوں، کسی حد تک جسمانی سرگرمیاں بھی مثبت فرق پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں، یعنی ہفتہ بھر میں 150 منٹ تک ورزش کرنا، فٹ رکھنے کے لیے کافی ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے بالغ افراد کو مشورہ دیا ہے کہ ہفتہ بھر میں 5 دن 30 منٹ تک معتدل جسمانی سرگرمیوں کو اپنانا چاہیے۔

بچوں کی دیکھ بھال
بچوں کے ساتھ فرش پر گھٹنوں کے بل چلنا، ان کے اسٹرولر کو چلانا اور دیگر بھاگ دوڑ بیشتر والدین کی زندگی کا حصہ ہوتی ہے، اگر آپ 5 سے 6 کلو کے بچے کو آسانی سے اٹھا کر چل پاتے ہیں یا کوئی بوجھ محسوس نہیں ہوتا تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ آپ جسمانی طور پر فٹ ہیں۔

سیڑھیوں سے ڈر نہیں لگتا
جب آپ کے سامنے لفٹ یا سیڑھیاں چڑھنے کا آپشن ہو تو کس کا انتخاب کریں گے؟ اگر آپ سیڑھیوں کا انتخاب کرتے ہیں تو آپ توقعات سے زیادہ فٹ ہوسکتے ہیں۔ درحقیقت جو لوگ سیڑھیوں کو ترجیح دیتے ہیں وہ اس عادت سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں زیادہ فٹ ہوسکتے ہیں۔

ورک آﺅٹ
اگر آپ ہفتے میں ایک مرتبہ جم جاکر ورک آﺅٹ کرتے ہیں، تو جسم کو اس کا بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے کیونکہ مختلف مسلز کی تربیت ہوتی ہے۔ جسم مضبوط بنانے والی ٹریننگ، یوگا، دوڑنا، اور دیگر۔ اگر مختلف طرح کی ورزشوں کو اپناتے ہیں تو جسمانی طور پر فٹ رہنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔

اچھی نیند
کیا آپ مناسب نیند کے مزے لوٹتے ہیں؟ دن بھر توانائی کی سطح کیا ہوتی ہے؟ اگر آپ رات کو 7 سے 8 گھنٹے سوتے ہیں اور دن بھر جسمانی طور پر تھکن کا احساس نہیں ہوتا تو یہ جسمانی فٹنس کی اہم علامت ہے۔ خیال رہے کہ ورزش کرنے کے عادی افراد کی نیند بہتر ہوتی ہے۔

اچھی ذہنی صحت
جسمانی سرگرمیوں اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق بہت واضح ہے، ورزش کرنے کی عادت ذہنی صحت کو ذہنی بے چینی، ڈپریشن اور چڑچڑے پن کو کم کرکے بہتر کرتی ہے، جبکہ خوداعتمادی اور دماغی افعال میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔