Courtesy: ڈان نیوز

سرخ گوشت کو زیادہ کھانے کی عادت جان لیوا جگر کے امراض کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔یہ دعویٰ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔تحقیق میں سرخ گوشت کھانے اور جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ بھنے ہوئے گوشت کو کھانے والے افراد میں اس مرض کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے جو آگے بڑھ کر جگر سکڑنے ، کینسر یا لیور فیلیئر کا باعث بن سکتا ہے۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

اس سے قبل یہ بات پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ سرخ گوشت کو بہت زیادہ کھانا کینسر، امراض قلب اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتا ہے تاہم اس تحقیق میں جگر پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔اس نئی تحقیق میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی کہ سرخ گوشت کو زیادہ کھانا ذیابیطس کا باعث بن سکتا ہے جو کہ جگر کے امراض کا خطرہ بڑھانے والی ایک بڑی وجہ ہے۔حیفہ یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران 789 بالغ افراد سے ان کی غذائی اور پکانے کی عادات کے بارے میں پوچھا گیا اور پھر ان کے جگر کے الٹرا ساﺅنڈ اسکین اور انسولین مزاحمت کے ٹیسٹ بھی ہوئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ جنک اور سرخ گوشت زیادہ کھاتے ہیں، ان میں جگر کے امراض کا خطرہ 47 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ انسولین کی مزاحمت کا امکان 55 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔تحقیق کےمطابق سرخ گوشت کو تیز آنچ پر زیادہ تک پکانا بھی جگر کے امراض اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھانے سے تعلق رکھتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ سرخ اور پراسیس شدہ گوشت کا بہت زیادہ استعمال صحت کے لیے انتہائی مضر ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انسولین کی مزاحمت اور جگر پر چربی چڑھنے سے بچنے کے لیے لوگوں کو سرخ گوشت کا کم جبکہ مچھلی اور چکن کو زیادہ ترجیح دینی چاہئے۔اسی طرح تلے ہوئے یا بھنے ہوئے گوشت کی بجائے ابالنا یا سالن کی شکل میں کھانا زیادہ بہتر ہے۔جگر پر چربی چڑھنے کا مرض اکثر ممالک میں بہت عام ہے اور ہر 4 میں سے ایک شخص اس کا نشانہ بنتا ہے۔