Courtesy: اردو پوانٹ

وزیر محنت و سماجی بہبود انجینئر احمد الراحجی نے نجی اداروں اور کمپنیوں کے ملازمین کو خوشی کی خبر سُناتے ہوئے کہا ہے کہ اُنہیں ہر ہفتہ دو چھُٹیوں کی سہولت دی جا رہی ہے۔ اس فیصلے کامقصد نجی اداروں میں کام کے ماحول اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ نجی اداروں کے ملازمین کے لیے گریڈ سسٹم بھی متعارف کروایا جا رہا ہے۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

الراجحی نے ان افواہوں کی تردید کی کہ حکومت اوقاتِ کار کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ فی الحال حکومت نے ڈیوٹی کے اوقات کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں بنایا اور نہ ہی تنخواہوں کی کم از کم حد مقرر کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام کے دوران کیا۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ کہ وزارت محنت کلیدی اور ایگزیکٹو عہدے سعودیوں کے لیے مختص کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

ہر کمپنی میں اعلیٰ انتظامیہ کی تعداد کُل ملازمین کی تعداد کا لگ بھگ پانچ فیصد ہوتی ہے۔ ان اعلیٰ عہدوں کے لیے وزارت کی جانب سے 200 سعودی مرد اور خواتین کو تربیتی کورس کروایا جائے گا۔ الراجحی کے مطابق اس وقت نجی اداروں میں تقریباً ایک کروڑ اسّی لاکھ سعودی کام کر رہے ہیں۔ جبکہ بینکوں میں 95 فیصد سعودی باشندے کلیدی عہدوں پر فائز ہو چکے ہیں۔

انشورنس اور پیٹرو کیمیکل کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر تقریباً 95فیصد ہی سعودی براجمان ہیں۔ تاہم اس کے باوجود مملکت میں بے روزگاری کی موجودہ شرح 12.9 فیصد ہے۔ وزارت محنت اس حوالے سے مزید شعبوں میں سعودائزیشن کا نفاذ کر رہی ہے۔ اُمید ہے کہ اگلے چار سال کے بعد مملکت میں بے روزگاری کی شرح گھٹ کر 10.5فیصد رہ جائے گی۔ اس سلسلے میں ایک بات مدنظر رکھی جائے گی کہ زیادہ سے زیادہ سعودیوں کو برسرروزگار کرنے کا ہدف سرمایہ کاروں کو نقصان پہنچائے بغیر حاصل کر لیا جائے۔ وزارت محنت نجی اداروں میں سعودی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے بھی مسلسل کوشش کر رہی ہے، تاہم ابھی تک سعودی ملازمین کے لیے تنخواہوں کی کم از کم حد مقرر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں بنایا گیا