Courtesy: اردو پوانٹ

وزات محنت و سماجی بہبود کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 23 ستمبر سے 29 ستمبر کے دوران مملکت کے مختلف علاقوں میں کاروباری مراکز اور دُکانوں پر 15,909 سے زائد چھاپے مارے گئے ، ان چھاپوں کے دوران وزارت محنت کے انسپکٹرز کی جانب سے چار مختلف شعبوں میں سعودائزیشن کی پابندی کا جائزہ لیا گیا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

اس انسپکشن مہم کے دوران آ ٹو موبائلز اور بائیک شاپس، مردانہ اور بچگانہ ریڈی میڈ گارمنٹس شاپس، گھریلو اور دفتری فرنیچر کی دُکانوں اور کچن کے ساز و سامان کی فروخت کے مراکز پر سعودائزیشن پالیسی پر پابندی کا معائنہ کیا گیا۔ اس مہم کے دوران 12,708 مقامات پر سعودائزیشن پالیسی کی پابندی نظرآئی جبکہ 1,392دُکانوں پر اس پالیسی کی خلاف ورزی سامنے آئی۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے 12 شعبوں میں سعودائزیشن کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے تحت پہلے مرحلے میں چار شعبوں کی سعودائزیشن کی گئی۔ اس سعودائزیشن کا مقصد مملکت میں بے روزگار سعودی خواتین و مردکو ان شعبوں میں روزگار فراہم کرنا ہے۔ قبل ازیں ان شعبوں میں لاکھوں کی تعداد میں غیر مُلکی ملازم براجمان ہیں۔ 9 نومبر 2018ء کو سعودائزیشن کے اگلے مرحلے کے تحت گھڑیوں، عینکوں، الیکٹریکل اور الیکٹرانکس کی اشیاء کی دُکانوں پر سعودی ملازمین کو ملازمتیں فراہم کرنا لازمی ہو جائے گا۔

جبکہ 7جنوری 2019ء سے طبی آلات و سامان، گاڑیوں کے پارٹس، بلڈنگ اور کنسٹرکشن میٹریل، کارپٹ شاپس اور کنفیکشنری شاپس کی دُکانوں پر سعودائزیشن کی پابندی شروع ہو جائے گی۔ وزارت کے مطابق جو دُکان مالکان بدستور غیر مُلکیوں کو ملازم رکھے ہوئے ہیں، اور اُن کی جگہ سعودیوں کو ملازمت پر نہیں رکھ رہے، اُن پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں جبکہ کچھ کی دُکانیں سعودائزیشن کی عدم پابندی کی بناء پر بند بھی کر دی گئیں۔