Courtesy: اردوپوانٹ

چین کے صوبے گوئیژو کے11 سکولوں نے مائیکروچپ لگی سمارٹ یونیفارمز متعارف کرائیں ہیں۔ یہ یونیفارمز سکول کے اوقات کے بعد بھی طلبا کو مانیٹر کر سکتی ہیں۔ اس سمارٹ یونیفارم کو ایک مقامی کمپنی گوئیژو گوانیو ٹیکنالوجی نے بنایا ہے۔ اس سمارٹ یونیفارم کے کندھوں پر لگے پیڈز میں دو مائیکرو چپ لگی ہوتی ہیں، جس کی بدولت سکول کی انتظامیہ اور بچے کے والدین 24 گھنٹے بچوں پر نظر رکھ سکتے ہیں۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

ایک جی پی ایس سسٹم بچوں کی حرکات پر نظر رکھتا ہے۔ بچے جب بھی سکول گراؤنڈ یا کلاس روم کو بغیر اجازت چھوڑتے ہیں تو ایک الارم سکول انتظامیہ اور گھر والوں کو خبر دار کرتا ہے۔ بچوں کے کلاس روم میں سونے کا بھی ان مائیکرو چپس سے پتا چل جاتا ہے۔ سمارٹ یونیفارم کے ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس کی مدد سے بچوں کے والدین موبائل فون ایپلی کیشن سے سکول میں بچوں کے خرچ پر نظر رکھ سکتے ہیں اور بچوں کی فضول خرچی پر خرچ کی حد کا تعین کر سکتے ہیں۔

سمارٹ یونیفارم بنانے والی کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کی سمارٹ یونیفارم میں حفاظت کے مسائل کو مد نظر رکھا ہے گیا۔ اس سے طلبا، والدین اور اساتذہ سب کا فائدہ ہوگا۔ سمارٹ یونیفارم کی خبر سامنے آنے کے بعد بہت سے لوگوں نے پچوں کی پرائیویسی کےحوالے سےاس کے استعمال پر تنقید بھی کی ہے۔ پرائیویسی کا مسئلہ سامنے آنے پر کمپنی نے وضاحت کی کہ یہ سمارٹ یونیفارم طلباء کی ہر قدم پر نگرانی نہیں کرتی۔

تاہم ایک سکول کے پرنسپل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس سمارٹ یونیفارم کے استعمال سے بچوں کی ہر وقت نگرانی کر سکتے ہیں۔ ان پرنسپل صاحب نے کہا وہ اس سمارٹ یونیفارم سے بچوں کو اس وقت ہی تلاش کریں گے جب وہ گم ہو جائیں گے یا کلاس سے بھاگنا شروع کر دیں گے۔ انٹرنیٹ صارفین نے سوال اٹھایا کہ طلبا ایک دوسرے کی یونیفارم پہن کر نگرانی کرنے والوں کو دھوکہ بھی تو دے سکتےہیں۔ا س پر کمپنی نے کہا کہ سمارٹ یونیفارم میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ہر بچہ اپنی ہی یونیفارم پہنے۔ اس کے لیے اس میں چہرہ شناسی کا فیچر بھی شامل کیا گیا ہے۔