Courtesy: اردوپوانٹ

میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ بچوں کو زندگی گزارنے کا ہنر سکھانے اور بہترین و کارآمد شہری بنانے کے لئے پرائمری اسکولوں کے اساتذہ کو اس حوالے سے تربیت دینا لازمی ہے تاکہ بدلتے حالات کے ساتھ بچوں کو دی جانے والی تعلیم کو موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سماجی تنظیم ’’آہنگ‘‘کے زیراہتمام زندگی گزارنے کے ہنر کے حوالے سے منعقدہ ورکشاپ سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

میئر کراچی نے کہا کہ زندگی گزارنے کے ہنر کے حوالے سے ’’آہنگ‘‘نے جو مہم شروع کی ہے وہ خوش آئند ہے، ہم نے شعور کی طرف توجہ نہیں دی گئی تاہم سماجی ادارہ ’’آہنگ‘‘ایک اچھے معاشرے کے لئے کام کر رہا ہے اس سے بہتری آئے گی، پرائمری اسکولوں میں اساتذہ کی تربیت ہونا چاہئے کہ بچوں کو زندگی گزارنے کا ہنر سکھائیں کیونکہ والدین اس طرف توجہ نہیں دے پارہے اور نہ ہی وہ بچوں کو یہ سمجھا سکتے ہیں کہ ان کی زندگی میں تبدیلی آرہی ہیں تو اس کی کیا وجوہات ہیں اور ان سے کس طرح نمٹاجاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کبھی بھی اس طرف توجہ نہیں دی مگر اب ہمارے بچوں میں زیادہ شعور آرہا ہے اورمیں تبدیلی آرہی ہے اساتذہ بچوں کی سیکورٹی تحفظ کے حوالے سے سمجھائیں، ہمیں بچوں کو یہ بتانا ہے کہ ان کی زندگی میں کیا کیا تبدیلیاں آسکتی ہیں، انہوں نے کہا کہ بچوں کو ہنرمند بنانے کے لئے والدین ان کی رہنمائی کریںسختی نہیں کریں، بچوں پر چھوڑ دینا چاہئے کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں، ضروری نہیں کہ ہر بچہ ڈاکٹر یا انجینئر بنے ،بچہ جو بننا چاہتا ہے وہ اس کی مرضی اور پسند پر ہونا چاہئے کہ وہ کیا پیشہ اختیار کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اسکولوں میں ہنر مند اساتذہ کو فوقیت دینے کی ضرورت ہے اب وقت ہے کہ بچوں کو زمانے کی تبدیلیوں کے حوالے سے بتایا جائے، خواجہ سرا ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں ’’آہنگ‘‘اگر ان کے حوالے سے کوئی قرار داد لانا چاہے تو سٹی کونسل میں منظور کرائی جائے گی، میئر کراچی نے کہا کہ حکومتوں نے بچوں کو وہ سہولت نہیں دی جو ان کو ملنا چاہئے نہ ان کے لئے پارک ہیں نہ ہی گرائونڈ یا دیگر کھیلوں کی سہولیات مگر اب ہم اس طرف کوشش کررہے ہیں، بچوں پر توجہ دینا اس لئے ضروری ہے کہ انہیں ان چیزوں کے نقصانات کا اندازہ نہیں ہوتا اس لئے ان کی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کو سہولیات دینا بھی ضروری ہے خصوصاً نوجوانوں کو تفریح اور کھیل کے مواقع لازمی طور پر مہیا ہونے چاہئیں۔