Courtesy: اردو پوانٹ

پولیس نے پیزا ڈلیوری کی خدمات انجام دینے والے نوجوان کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ملزم بُراق اٹھارہ سال کا نوجوان ہے جو تُرکی کے شمال مغربی شہر اسکیسہر کا رہائشی ہے۔ ملزم پیزا بنانے والی ایک کمپنی کا ملازم ہے جسے تیار کردہ پیزا گاہکوں کو گھر میں پہنچانے ہوتے ہیں۔وقوعہ کے روز اُسے انتظامیہ نے ایک گاہک حُسین الیُوز کو پیزا پہنچانے کو کہا، جس کا اپارٹمنٹ ایک رہائشی بلڈنگ کی پانچویں منزل پر واقع تھا۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

ڈلیوری بوائے نے حُسین کو پیزا ڈلیور کیا۔ابھی اُس نے پیزا کا ڈبہ کھول کر اُس میں سے دو سلائسز کھا ئے تھے کہ اسی بلڈنگ میں مقیم اُس کے بھانجے کا ٹیکسٹ میسج آیا کہ وہ پیزا نہ کھائے۔ چٹخارے دار پیزا چباتے حُسین نے حیرانی کے عالم میں باقی کے پیزا پر ہاتھ صاف کرنے کا ارادہ تھوڑی دیر کے لیے مُلتوی کردیا اورفوری طور پر اپنے بھانجے کو کال کر کے وجہ دریافت کی تو بھانجے نے جو کچھ بتایا، اُسے سُن کر ماموں کے اوسان خطا ہو گئے۔

بھانجے کے مطابق اُس نے ڈلیوری بوائے کو گراؤنڈ فلور پر پیزے کا ڈبہ کھول کر اُس پر تھُوکتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ ملزم نے اپنی اس شرمناک حرکت کی سیلفی بھی لی تھی۔ حُسین کو یہ بات سُن کر اُبکائی سی آنے لگی۔ اُس نے چند منٹوں بعد ہی عمارت میں نصب کلوز سرکٹ ٹی وی کیمروں کی فوٹیج چیک کی تو بھانجے کی بات کی تصدیق ہو گئی۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ملزم شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ پیزے کا باکس کھولتا ہے پھر اپنا موبائل ہاتھ میں پکڑ کر پیزا پر تھُوک پھینکتا ہے اوربڑی ڈھٹائی سے اس لمحے کی سیلفی اپنے موبائل میں محفوظ کر لیتاہے۔

‘‘ گاہک حُسین الیُوز نے مشتعل ہو کر قریبی پولیس تھانے میں پیزا کمپنی اور ڈلیوری بوائے کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔ مذکورہ نوجوان کو اُس کی ذلیل حرکت پر گرفتار کر لیا گیا۔ استغاثہ کی جانب سے جج صاحبان سے استدعا کی گئی ہے کہ اس گھناؤنی حرکت پر ملزم کو اٹھارہ سال قید کی سزا سُنائی جائے۔ عدالت کی جانب سے پیزا کی فرانزک رپورٹ آنے کا انتظار ہے جس میں انسانی صحت پر تھُوک کے نقصان دہ اثرات کو مدنظر رکھ کر ملزم کو سزا سُنائی جائے گی۔