Courtesy: اردوپوانٹ

مقامی عدالت نے ایک نوجوان کو دو لڑکیوں کی اُن کی اجازت کے بغیر ویڈیو بنانے پر اُسے پانچ ہزار درہم کا بھاری جرمانہ کر دیا، اس شرمناک حرکت میں استعمال ہونے والا موبائل فون بھی عدالتی حکم پر ضبط کر لیا گیا۔ استغاثہ کے مطابق ایک ایشیائی مُلک سے تعلق رکھنے والی دو خواتین عجمان چائنہ مال میں شاپنگ کر رہی تھیں کہ اچانک اُنہوں نے ایک نوجوان کو اُن کی خفیہ ویڈیو بناتے ہوئے دیکھا۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

جس پر ایک لڑکی ہمت کر کے نوجوان کے پاس گئی اور اُسے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا موبائل چیک کروائے کیونکہ اُنہیں شک ہے کہ اُن کی ویڈیو بنائی گئی ہے۔ پہلے تو نوجوان نے موبائل دینے سے انکار کیا تاہم وہاں لوگوں کے اکٹھے ہونے پر مجبوراً اُسے موبائل لڑکیوں کو چیک کروانا پڑا۔ لڑکیوں کے یہ دیکھ کر ہوش اُڑ گئے کہ ملزم اُن کی کافی دیر سے مختلف انداز میں ویڈیو بنا رہا تھا۔

نوجوان نے اُن کی مختلف دُکانوں میں گھُومتے پھرتے وقت مجموعی طور پر سات سے زائد ویڈیو کلپ بنائے تھے۔ تاہم ملزم کا عدالت میں کہنا تھا کہ وہ تو مختلف دُکانوں کی ویڈیوز بنا رہا تھا، دونوں خواتین اتفاق سے اُس کی ویڈیوز میں آ گئیں۔ اُس کا حقیقی طور پر اُنہیں ریکارڈ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ تاہم عدالت نے نوجوان کے مؤقف کو غلط قرار دیتے ہوئے اُسے سخت پانچ ہزار درہم جرمانے کی سزا سُنا دی اور اس کا موبائل فون بھی ضبط کر لیا گیا۔ 2012ء کے اماراتی سائبر کرائم قانون کی شق نمبر 5کے مطابق کسی دُوسرے شخص کی پرائیویسی میں دخل دینے والے کو ڈیڑھ لاکھ درہم سے پانچ لاکھ درہم تک کا بھاری جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اُسے ایک سال قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔