Courtesy: اردو پوانٹ

برطانیہ کے بین الاقوامی ترقی کے ادارے (ڈیفیڈ) کے تعاون سے پارتھینیم ویڈ مینجمنٹ ایکشن پلان (گاجر بوٹی) کے حوالے سے دو روزہ ورکشاپ گزشتہ روز اسلام آباد میں اختتام پذیر ہو گئی۔ ورکشاپ کا مقصد پارتھینیم کی پاکستان میں موجودگی اور اس کے اثرات کے بارے میں معلومات اور آگاہی فراہم کرنا اور اس حوالے سے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا تھا۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

ورکشاپ میں پارتھینیم کی روک تھام کے حوالے سے قلیل، وسط و طویل المدتی جامع منصوبہ عمل تیار کرنے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ منصوبہ عمل تین مرحلوں پر مشتمل ہے جن میں تحقیق، ترقی اور کمیونیکیشن شامل ہیں۔ اس کے تحت متعلقہ فریقین کے ساتھ روابط کو مضبوط بنایا جائے گا اور ان کی مشاورت سے مختلف قسم کی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔

منصوبہ عمل میں ویڈ مینجمنٹ ڈیسین گائیڈ کی تیاری پر توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ اس کی نشاندہی اور روک تھام کیلئے رائج بہترین طریقوں کو بروئے کار لایا جاسکے۔ ویڈ کو کنٹرول کرنے کیلئے کیمیکلز کا استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن یہ ماحولیات کیلئے نقصان دہ ہیں، اس سلسلے میں ممکنہ طریقوں پر غور کیا جائے گا جو کسانوں کیلئے قابل عمل ہوں اور معاشرے میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کی جاسکے۔
پارتھینیم جیسی چیزوں سے ہر سال دنیا کی معیشت کو 1.4 کھرب ڈالر سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے اور اس سے زیادہ تر غریب اور کمزور طبقات متاثر ہوتے ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا میں ہر سال اس سے کم از کم 33 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے جس سے جی ڈی پی میں پانچ فیصد تک کمی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سی اے بی آئی صحت اور ماحولیات کے حوالے سے بھی کام کر رہی ہے، اس مقصد کیلئے برطانیہ کا بین الاقوامی ترقی کا ادارہ (ڈیفیڈ) اور ڈائریکٹوریٹ جنرل فار انٹرنیشنل کوآپریشن (ڈی جی آئی ایس) بھرپور معاونت فراہم کر رہا ہے جس سے 50 ملین کے قریب غریب دیہی آبادی کی زندگیوں میں بہتری آ رہی ہے جو کہ افریقہ اور ایشیا میں اس طرح کے مسائل سے دوچار ہیں۔

پارتھینیم فصلوں کی پیداوار اور کھیتوں کو متاثر کرتی ہے اس کے علاوہ جنگلات کو بھی اس سے بے پناہ نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ مختلف قسم کے مفید پودوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے، اس سے جنگلی اور پالتو حیات کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور انسانوں میں مختلف قسم کی الرجیز کے پھیلنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ قبل ازیں ہونے والی ایک ورکشاپ میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ باٹنی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسد شبیر نے آگاہ کیا کہ پاکستان بھی اس سے بڑے پیمانے پر متاثر ہوسکتا ہے، عوام میں ’’گاجر بوٹی‘‘ کے نام سے جانی جانے والی پارتھینیم اپنے سفید پھولوں کے ساتھ بڑی خوشنما نظر آتی ہے اور اسے مختلف قسم کی سجاوٹوں اور بناوٹ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے بیج ہوا کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں اور استھما، آنکھوں کی جلن، گلے میں خراش اور ایگزیما کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ یہ مختلف قسم کی الرجیوں اور انسانوں و حیوانات میں ہاضمے کے مسائل کا باعث بنتی ہے۔ دی سینٹر فار ایگریکلچر اینڈ بائیو سائنسز انٹرنیشنل (سی اے بی آئی) کے پروگرام آفیسر ڈاکٹر کوثر خان نے کہا ہے کہ دیہی اور شہری علاقوں میں پائی جانے والی گاجر بوٹی ایک خطرناک پودا ہے، جو انسانی صحت، جانوروں اور زرعی اجناس کیلئے بہت نقصان دہ ہے، اس کا ایک پھول تقریباً 20ہزار بیج پیدا کرتا ہے، اس سے انسان جلدی امراض میں مبتلا ہوسکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز پارتھینیم (گاجر بوٹی) کے حوالے سے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر متعلقہ شعبہ وابستہ افراد اور شرکاء موجود تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ گاجر بوٹی کے خاتمے کیلئے ہر شخص اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ یہ پودا انسانی صحت، جانوروں اور زرعی اجناس کیلئے نقصان دہ ہے جن علاقوں میں نمی پائی جاتی ہے وہاں پر یہ پودا زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے، وہاں کے لوگ اس کے تدارک کیلئے بھرپور اقدامات کریں۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے دی سینٹر فار ایگریکلچر اینڈ بائیو سائنسز انٹرنیشنل (سی اے بی آئی) سی ڈبلیو اے پاکستان کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر بابر باجوہ نے کہا کہ پارتھینیم ایک تباہ کن جڑی بوٹی ہے جو فصلوں کو تباہ کرتی ہے اور انسانوں کے لئے بھی سخت نقصان دہ ہے۔ کسانوں کے ساتھ ساتھ عام عوام کو بھی اس خاموش دشمن کے بارے میں آگاہ کرنا ضروری ہے جو ان کے درمیان موجود ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سی اے بی آئی کے منصوبہ عمل سے پارتھینیم کی روک تھام اور اس پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔