وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہاہے کہ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے قائدین احتجاج کریں مگر قانون ہاتھ میں لینے سے گریز کریں ، سپاہیوں کا اغواء انتہائی سنگین جرم ہے ،نبی کریم کی تعلیمات عوام کے حقوق کا احترام سکھاتی ہیں ،مریضوں ، طالبعلموں اور عوام کی زندگی اجیرن کرنا کسی بھی طرح حب رسول نہیں ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ مریضوں ، طالبعلموں اور عوام کی زندگی اجیرن کرنا کسی بھی طرح حب رسولؐ نہیںسپاہیوں کا اغواء انتہائی سنگین جرم ہے ۔

تحریک لبیک یا رسول اللہ کے قائدین احتجاجکریں مگر قانون ہاتھ میں لینے سے گریز کریں ۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہاکہ کوئی مسلمان ختم نبوتؐ پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا ، اس مسئلہ پر قوم متحد ہے لہذا تقسیم پیدا کرنا نامناسب ہے ۔احسن اقبال نے کہاکہ پاکستانی عاشقان رسولؐ کی قوم ہیں پاکستان میں امن کی حفاظت سب کا فرض ہے پاکستان دشمن حلقے مظاہرین کی تصویریں اور تقریریں عالمی سطح پر اسے بدنام کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔

حکومت کی کوشش ہے کہ تشدد سے بچا جائے ۔وفاقی وزیرداخلہ نے کہاکہ عوام کی مشکلات کا مظاہرین کو احساس دلوایا گیا ہے ۔ امید ہے وہ جلد راستہ کلیئر کر دیں گے ۔ حکومت انتہائی قدم اٹھانے سے احتیاط برت رہی ہے تاکہ شرپسند اس کا فائدہ نہ اٹھا سکیں ۔احسن اقبال نے کہاکہ امید ہے حکومت کو انتہائی قدم پر مجبور نہیں کیا جائیگا ۔دریں اثناء وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہرراولپنڈی کے درمیان فیض آباد پل پر مذہبی جماعت کا دھرنا چھٹے روز بھی جاری رہا جس کے باعث آمد و رفت کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی اور ٹریفک جام کے مسائل کا سامنا رہا ٗ

حاضری اور چھٹی کے اوقات میں مسافر پیدل خوار ہوتے رہے ٗکئی سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے شاہراہ کشمیر اور کشمیر چوک سے ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک جام کی وجہ سے مری اور مضافات کے لئے جانے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہرراولپنڈی کے درمیان فیض آباد پل پر مذہبی جماعت کا دھرنا چھٹے روز بھی جاری رہا جس کے باعث آمد و رفت کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی اور ٹریفک جام کے مسائل کا سامنا رہا ٗ حاضری اور چھٹی کے اوقات میں مسافر پیدل خوار ہوتے رہے ٗکئی.

سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے شاہراہ کشمیر اور کشمیر چوک سے ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک جام کی وجہ سے مری اور مضافات کے لئے جانے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔روٹ نمبر ایک، روٹ نمبر 21، روٹ نمبر 111 اور روٹ نمبر 136 پر گاڑیاں انتہائی کم رہیں اور رہے سہے ٹرانسپورٹرز نے بھی زائد کرایوں کی وصولی اور روٹ مکمل نہ کر کے من مانیاں شروع کر رکھی ہیں۔ مریضوں کو ہسپتال آنے جانے کے لئے بھی انتہائی دشواری رہی ۔

Courtesy: جاوید چودھری ڈاٹ کام