Courtesy: اردو پوانٹ

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذہنی صحت کا دن بدھ کو منایا گیا۔ جس کا مقصد مختلف قسم کے ذہنی عوارض میں مبتلا افراد کو درپیش مشکلات اور چیلنجز کو اجاگر کرنا ہے، دنیا بھر میں تقریباً 21 ملین افراد ذہنی امراض کا شکار ہیں۔اس دن کے حوالے سے ڈاکٹر خالد نے کہا کہ اس کا ہر گز مطلب نہیں کہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کو دنیا سے الگ تھلگ کر کے عمر قید میں رکھ دیا جائے۔

نشے سے نجات کیلئےایک دُکھی دل کی پکار “یہ دھواں کھا گیا ، میری روح کو، میرے چین کو ” گلوکار سلطان بلوچ کا سلگتا ہوا نغمہ ، دلگداز آواز، دل کو چھو لینے والی دھن روح کو تڑپا دینے والے بول – ولنگ ویز پروڈکشن

جس طرح جسمانی صحت کی اہمیت ہے اسی طرح ذہنی صحت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔انھوں نے کہا کہ ایسے افراد کو معاشرے کا حصہ بنائے جانے اورانہیں صحت، تعلیم، روزگار، ہائوسنگ کے مواقع فراہم کرنے کے لئے خصوصی دیکھ بھال اور توجہ دی جائے۔ انہوں نے ہیلتھ کیئر ورکرز کی حوصلہ افزائی کی جو ایسے مریضوں پر توجہ دیتے ہیں اور کہا کہ ذہنی عارضوں میں مبتلا افراد کو باقاعدہ سے معائنہ اور ماہرین صحت کے مشورے لینے چاہئیں تاکہ وہ صحت یاب ہو کر باعزت زندگی گذارنے کے قابل ہو سکیں اور ہمیں مل کر ایسے مریضوں کو حوصلہ دینے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس دن کے موقع پر ذہنی امراض کے بارے میں لیکچرز سیمیارز اور مذاکرے بھی منعقد ہوئے۔