بے آواز چیخیں

2

وہ تکالیف جو کسی شخص میں منشیات کا استعمال ترک کرنے سے پیدا ہوتی ہیں انہیں علامات پسپائی کہتے ہیں۔ یہ تکلیفیں نشے کے گرد گھومنے والے طرز زندگی سے الگ ہونے پر پیدا ہوتی ہیں۔ علامات پسپائی تین ہفتے تک چلتی ہیں اور پھر مدہم ہوتی ہوئی مٹ جاتی ہیں اور راوی چین لکھنے لگتا ہے، زیادہ تر مریض تیزی سے زندگی کی مانگ میں سیندور بھرنے لگتے ہیں۔ بدقسمتی سے چند مریضوں کیلئے نشے سے بغیر زندگی پھولوں کی سیج ثابت نہیں ہوتی، اُن میں پھر خالی پن، مایوسی اور ذہنی اذیت ابھر آتی ہے ۔ یہ کیفیت …….. کہلاتی ہے۔ جن مریضوں کو سلگن تنگ کرتی ہے بظاہر وہ بھلے چنگے نظر آتے ہیں پر اندر سے اُن کا برا حال ہوتا ہے۔ان کی چیخیں نکل رہی ہوتی ہیں لیکن کوئی سن نہیں پاتا کیونکہ …….. ہوتی ہیں۔ وہ زخموں سے چور ہوتے ہیں تاہم کوئی بھی یہ زخم دیکھ نہیں سکتا کیونکہ ان زخموں کے منہ باہر نہیں، اندر کی طرف ہوتے ہیں۔ ایسے مریض جلد یا بدیر واپس نشہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ ریلیپس کہلاتا ہے۔ …….. ایڈکشن کی دنیا کا ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ ریلیپس کو اردو میں ارتداد کہتے ہیں۔ ارتداد کا لفظ مرتد سے نکلا ہے۔ مرتد ایمان لا کر واپس مُکر جانے کو کہتے ہیں۔ یہ بہت تلخ فیصلہ ہوتا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ کوئی چین سے نہیں رہ سکتا۔اس اذیت ناک حالت میں مریض بہت سی …….. کرتا ہے، خود فریبی اپنا جال بننے لگتی ہے۔ ایسے بے چین شخص کو نشے سے نجات دلانا بہت صبرآزما کام ہوتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے 37 سال (اور میں اب بھی یہ کام کررہا ہوں) اس طرح کے ہزاروں حیرت زدہ اور اذیت میں مبتلا افراد کے حالات زندگی کا مطالعہ کرتے کرتے گزار دیے جو بار بار ریلیپس سے نبردآزما ہوجاتے ہیں۔ …….. ان مریضوں میں ہونے سے کچھ پہلے علامتیں نظر آتی ہیں جنہیں …….. کہا جاتا ہے۔ نتیجے میں …….. کا یہ پروگرام معرض وجود میں آیا۔ ریلیپس سے بچاؤ کے کچھ طریقے بہت مؤثر ہیں اور ان پر میراایمان بہت مضبوط ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ انمول معلومات آپ کی زندگی بچا سکتی ہیں۔ اگر آپ اس تحریر کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں مشکلات محسوس کریں تو ہر گز ناامید نہ ہوں، ریلیپس سے بچاؤ کی اس حکمت عملی کو بار بار پڑھتے رہیں، آہستہ آہستہ آپ کو سب باتیں سمجھ آنے لگیں گی۔ نشے کی بیماری ایک لاعلاج بیماری ہے لہذا اس میں نشہ چھوڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ حوصلہ نہ ہارئے یہ ذرا سمجھنے کی بات ہے!

نشے کی بیماری سے جان کھو دینا عام ہے۔ آپ ریلیپس کی پیش بندی کے علاج کو اچھی طرح سمجھ لیں تاکہ آپ کا پیارا محض اس کوتاہی سے ریلیپس نہ ہوجائے۔ …….. ایک نیا اور بہت مؤثر طریقہ علاج ہے۔ یہ بہت اہم ہے ہم بار بار ریلیپس ہونے والے مریضوں تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ابھی بھی امید کی کرنیں موجود ہیں۔ میرا یقین ہے کہ یہ علم ان مریضوں کو مدد دینے کا ایک بہترین راستہ دکھاتا ہے جنہیں ماضی میں لاعلاج سمجھا جاتا تھا۔

1980 ء میں جب……..کے دروازے نشے کے مریضوں پر کھلے، چند ہی لوگ جانتے تھے کہ……..اس سے بھی کم لوگ جانتے تھے کہ نشہ چھوڑنے کے بعد سب کچھ ہرا ہرا نہیں ہوتا، یہاں سے ایک آسان لیکن طویل جدوجہد کا آغاز ہوتاہے۔ جسے …….. کا حسین سفر کہا جاسکتا ہے۔ صداقت کلینک کے جامع علاج سے ان گنت تباہ حال زندگیاں سنبھل گئیں اور سینکڑوں گھر ٹوٹنے سے بچ گئے، زخم مندمل ہوگئے، بے شمار لوگوں کا وقار بحال ہوا۔ یہ سب کچھ تو میرے لئے بہت خوش کن تھا تاہم کچھ مریض جلد ہی ریلیپس ہو جاتے اور لوٹ کر علاج گاہ میں آجاتے۔ کیونکہ وہ نشے سے بحالی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے۔ وہ اور ان کے اہل خانہ اس بات سے واقف نہ تھے کہ نشے سے نجات کا سفر آدھے اور ادھورے دل سے کیا جائے تو نتیجہ ریلیپس کی صورت میں نکلتا ہے اور یہ ڈانواڈول بحالی کا شاخسانہ ہوتا ہے۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3
  • 4
  • 5

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments