بے آواز چیخیں

3

1980 ء میں پاکستان میں اس وقت زیادہ تر ماہرین مجھ سے سینئر تھے اُن کی عمومی سوچ یہی تھی کہ ریلیپس کا رجحان رکھنے والے ان مریضوں سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کی جا سکتیں، لہذا ایسے مریضوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اُن مریضوں پر توجہ دی جانی چاہیے جو آسانی سے نشہ چھوڑ دیتے ہیں۔ میری طبیعت مریضوں میں ایسے تعصب پر مائل نہ تھی اور ریلیپس کے عادی مریضوں سے بھی امیدیں وابستہ کر لیتا تھا۔ ان کا علاج تکلیف دہ حد تک مشکل ہوتا ہے تاہم میں فوراً ہی سیکھنے لگا۔

پہلی چیز میں نے یہ جانی کہ ریلیپس کا رجحان رکھنے والے مریضوں پر روایتی نفسیاتی طریقے کام نہیں کرتے۔ میں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مریضوں میں …….. کا علاج کافی نہیں ان کی …….. کا علاج بھی ضروری ہے۔ یوں سمجھیں کہ سیلاب کی طرح آگے بڑھتے …….. ایک مقدس جہاد ہے۔

اس زمانے میں علاج کے بعد کچھ مریض تو بہت سنجیدگی اور باقاعدگی سے ریلیپس ہو جاتے تھے۔ سچ پوچھیں تو ان میں سے اکثر ریلیپس نہیں ہوتے تھے بلکہ پورے جوش و جذبے سے ارادتاً دوبارہ نشہ کرلیتے تھے۔

اس وقت صداقت کلینک میں مریضوں کو کھری کھری سنانے کا رواج تھا۔ میں نے جلد ہی سیکھ لیا کہ ریلیپس کا رجحان رکھنے والے مریضوں پرایسا ساس بہو والا انداز کام نہیں کرتا۔ ایسے مریض تو کھری کھری سنانے میں خود چمپئین ہوتے ہیں۔ یہ تجربات بہت تلخ تھے۔ میں نے جلد ہی یہ بھی جان لیا کہ ان کے ساتھ سختی بے فائدہ ہے، یہ تو خود ہی اپنے ساتھ بہت زیادہ تندوترش ہوتے ہیں۔ ان میں خود کو سزا دینے اور ملامت کرنے کا بہت رجحان ہوتا ہے۔ وقت گزرتا رہا اور منظر بدلتا رہا، صداقت کلینک کا پروگرام ایک خوبصورت چشمے کی طرح نکھرتا رہا۔ گزرتے وقت کے ساتھ کامیابی قدم چومتی رہی۔ دو جذبے علاج میں ابھرتے رہے، ایک صبر جو مریضوں نے مجھے سکھایا اور دوسرا اپنے آپ سے پیار جو میں نے انہیں سکھایا۔

ریلیپس کا میلان زہریلی کھمبیوں اور پھپھوندی کی طرح اندھیرے میں پروان چڑھتا ہے۔ واضح اور روشن سوچ ریلیپس کے میلان کا قلع قمع کر دیتی ہے۔ ریلیپس اور بحالی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ریلیپس کے درد کو سہے بغیر آپ بحالی کا مزہ نہیں چکھ سکتے ۔ریلیپس کا میلان کوئی شرم کی بات نہیں، یہ بحالی کے عمل کا نارمل حصہ ہے۔ ریلیپس کی فکر چھپانے سے یہ میلان پروان چڑھتا ہے۔ ریلیپس سے کھل کر اور ایمانداری سے نپٹنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

بہت سے مریض غلط عقائد یا احتیاطی تدابیر سے لاعلمی کی وجہ سے ریلیپس ہوتے ہیں۔ وہ خود کو ملامت کرتے ہیں، اہل خانہ کو ملامت کرتے ہیں اور معالج کو ملامت کرتے ہیں واپسی میں انہیں بھی ملامت ہی ملتی ہے۔ ملامت کا یہ گورکھ دھندہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ میں ریلیپس سے بچاؤ پر بہت درد دل سے کام کرتا ہوں تاکہ متاثرہ شخص کے دل میں امید کی شمع جلتی رہے! کالے بادلوں کے کناروں پر بھی چاندی کے تار چمکتے رہیں، سرنگ کے اُس پار دوسر ی جانب روشنی نظر آتی رہے۔ میں نے ریلیپس کی عِلت میں متبلا ان مریضوں کا وفاشعار دوست بننے کا ہنر سیکھا اور …….. نبھایا۔ میں نے مریضوں کے اہل خانہ کے درد کو بھی سمجھا اور ان کے ساتھ معلومات اور تجاویز کے علاوہ آنسوؤں اور آہوں کو بھی شئیر کیا۔ آخر کار میں انہیں یہ سکھانے میں کامیاب ہوا کہ ……..

ابتدائی سالوں میں مریضوں کے ساتھ مجھے زیادہ کامیابی نہیں ملی۔ مایوس ہونے کی بجائے میں نے روایتی طریقے ترک کر کے اصل ماہرین سے دوبارہ سیکھنا شروع کر دیا، اصل ماہرین میری نظر میں یہ مریض ہی تھے۔ علاج کا اہم حصہ مریض اور اہل خانہ سے انفرادی نشست پر مبنی ہے جو کہ تمام کا تمام ریلیپس کی وجوہات تلاش کرنے اور اس سے بچاؤ کی منصوبہ بندی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

  • 1
  • 2
  • 3
  • اگلا صفحہ:
  • 4
  • 5

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments