بے آواز چیخیں

4

مریضوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ وہ بتائیں وہ آخری بار کب اور کتنا عرصہ نشے کے بغیر رہے؟ مجھے حیرت ہوئی کہ زیادہ تر مریض اپنے حالیہ ریلیپس سے پہلے اپنے مریض ہونے کے قائل نہ تھے اورانہیں کسی باقاعدہ علاج کی ضرورت کا احساس بھی نہ تھا۔ مجھے یہ جان کر بھی تعجب ہوا کہ ان میں سے زیادہ تر نشے سے پاک رہنے کی کوئی شدید خواہش نہیں رکھتے تھے اور وہ کچھ نہ کچھ نشہ کرنے کا حق محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔ ان مریضوں کے ساتھ ماضی میں ہر قسم کی کھینچ تان ہو چکی تھی۔ ان میں سے کچھ کے ساتھ بجلی کے جھٹکوں اور تکلیف دہ علاجوں کا تجربہ بھی کیا گیا تھا۔ کچھ کو کئی مہینوں تک تالوں میں بند رکھا گیا تھا۔ ان میں سے کئی کو بہانے سے جیل بھجوایا گیا اور بعض کو پردیس بھی بھیجا گیا، پھر بھی انہوں نے دوبارہ نشہ شروع کر دیا۔

کچھ مریض ایسے بھی تھے جو نشہ چھوڑنے میں مخلص تھے اور قوت ارادی کے بل پر نشہ چھوڑنے کی جان دار کوششیں بھی کرتے رہتے تھے لیکن پھر بھی وہ ریلیپس ہو جاتے تھے۔ ان مریضوں کے ماضی پر گہری نظر ڈالنے کا مقصد یہ تھا کہ میں مرحلہ وار ان باتوں کو ترتیب دے سکوں کہ آخر جو شخص نشہ چھوڑنا چاہتا ہے اور اس بیماری کے بارے میں خاصا علم اور قوت ارادی بھی رکھتا ہے، آخر وہ کیسے دوبارہ نشہ شروع کر دیتا ہے؟ آخر ہیروئن کے مریض خود کو ایک سگریٹ پینے پر کیسے قائل کر لیتے ہیں جبکہ وہ جانتے بھی ہیں کہ یہ ایک سگریٹ انہیں دوبارہ نشے کی دلدل میں دھکیل دے گا۔ ہم نے ان تمام مریضوں کو ایک مضبوط …….. میں ڈالنا شروع کردیا اور فالو اپ پروگرام سے الگ کر دیا کیونکہ فالو اپ پروگرام اتنی شدت سے بحالی کے پروگرام کا تصور ہرگز نہیں دیتا تھا جتنی اشد ضرورت ان مریضوں کو تھی۔ …….. ان مریضوں کیلئے مخصوص کردیا گیا جو ایک ہی چھلانگ میں دلدل کے اُس پار چلے جاتے تھے۔ آؤٹ ٹریٹمینٹ پروگرام ایک طرح ہمارا آئی سی یو قرار پایا جہاں ٹریٹمینٹ کا مطلب ٹریٹمینٹ ہی تھا۔

ریلیپس کی علت میں مبتلا مریضوں میں بہت سی باتیں مشترکہ ہیں۔ یہ بات میں نے مریضوں سے تبادلہ خیالات کے بعد جانی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اکثر لوگ ایک طرح کی گدلی اور میلی سوچیں، جذباتی رد عمل، خاص حرکات و سکنات اور حالات سے گزرتے ہوئے ریلیپس ہوتے ہیں۔ وقت گزرتا گیا، سیکھنے کا عمل تیز ہوتا گیا۔ یوں ایک مختصر اور مؤثر پروگرام سامنے آیا جسے ……..کا نام دیا گیا۔ یہ پروگرام آغاز سے ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کرتا ہے اور مریض کو ارتداد کی گہری کھائی میں اترنے سے بچا لیتا ہے۔

کچھ ہی سالوں میں نشے کے علاج کے حوالے سے سینئر ماہرین نفسیات کا شوق ماند پڑ گیا اور انہوں نے نشے کے مریضوں سے نہ صرف ہاتھ کھینچ لیا بلکہ فتویٰ دے دیا کہ ’’نشے کے مریض سدھر نہیں سکتے۔‘‘ اپنی شکست ماننا ماہرین کیلئے بھی مشکل ہوتا ہے تاہم صداقت کلینک سے منسلک ہر شخص میں احساس ذمہ داری بڑھ گیا۔ صداقت کلینک نے آغاز سے ہی ریلیپس کو علاج کی کمزوری گردانا اور کسی ایسے ’’پروگرام‘‘ کی تلاش شروع کر دی جس سے ہم اور ہمارے مریض سرخرو ہو سکیں۔ ہم نے منشیات کے مریضوں کی بحالی کیلئے ایک روایتی مرکز کا آغاز کیا تھا لیکن جلد ہی ہماری توجہ صرف ریلیپس پر مرکوز ہو کر رہ گئی۔ سچ تو یہ ہے کہ ریلیپس ہماری چھیڑ بن گیا۔ ہمیں مریضوں کے نشہ نہ چھوڑنے پر طعنے دئیے جاتے! 1980 میں طبی حلقوں میں علاج منشیات کو زیادہ عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ تاہم ہماری تمنا تھی کہ ماہرین امراض قلب اور سرجنوں کی طرح ہمیں بھی ممتاز ڈاکٹر سمجھا جائے۔ ہمارے مریضوں کے گھروں میں بھی ہماری عزت اور وقار زیادہ نہ تھا۔ دراصل خود ہمارے مریضوں کا اپنے گھروں میں کوئی وقار نہ تھا تو ہمارا کیسے ہوتا؟ یہ بات ہمارے لئے کافی تحریک کا باعث تھی کہ کچھ کر گزریں!

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • اگلا صفحہ:
  • 5

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments