بے آواز چیخیں

5

ہم نے اپنے علاج کا مرکزی نکتہ ریلیپس سے بچاؤ کو بنایا۔ ہم نے ان غلط عقیدوں اور نقصان دہ رویوں کو بھی پہچاننا شروع کر دیا جو ریلیپس کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ ہم انتہائی نرم انداز میں مریضوں پر اثر انداز ہونا سیکھ رہے تھے۔ ہم نے مریضوں کو دو حصوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ ایک طرف وہ تھے جو علاج میں سے گزرنے کے بعد تیزی سے آگے بڑھتے تھے اور دوسرے وہ جو نشہ چھوڑتے ہی گلی سڑی سوچوں میں ڈوب جاتے تھے اور واپس نشے میں لے جانے والی اذیت کی گھاٹیوں پر پھسلنا شروع کر دیتے۔

پہلی قسم وہ تھی جنہیں بحالی ایک انمول تحفے کی طرح پلیٹ میں پڑی مل جاتی تھی اور دوسری قسم وہ جنہیں نشے سے آزادی کیلئے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر وہ تھے جنہیں ریلیپس سے بچنے کیلئے جہاد کرنے کی ضرورت تھی لیکن وہ اس کیلئے تیار نہ تھے۔ وہ اس قیمت پر نشہ چھوڑنے کا ذوق و شوق نہ رکھتے تھے اور دوسری طرف وہ تھے جنہیں خدا چھپڑ پھاڑ کر دے رہا تھااور وہ نشہ چھوڑ کر بھر پور زندگی گزار رہے تھے۔

جن مریضوں میں ایک بڑی جدوجہد کا عنصر کم نظر آیا، انہیں دوبارہ نشہ کرنے سے پہلے ہی ہم نے …….. کا مشورہ دینا شروع کر دیا۔ نشہ کئے بغیر پھر سے ان ڈور ٹریٹمینٹ میں آنا انہیں عجیب لگتا تھا جیسے کہ ’’جرم‘‘ کا ارتکاب کیے بغیر ’’سزا‘‘ کا تصور ۔ جلد ہی اس کے فوائد سامنے آنے لگے۔ جو مریض ان ڈور ٹریٹمینٹ برائے ریلیپس پری وینشن کیلئے راضی نہ ہوتے انہیں این اے کے ڈھانچے میں زیادہ شدت سے ایڈجسٹ ہونے کی تجویز دی جاتی۔…….. پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ لیکن این اے پروگرام میں مریض کا گھیراؤ ’’اس درجے کا نہیں ہوتا جتنا کہ کسی ریلیپس کی گھاٹی پر لڑھکتے ہوئے مریض کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ جدوجہد جاری رہی جلد ہی ہم نے یہ جانا کہ ریلیپس سے بچاؤ کا طریقہ علاج اختیار کرنے کے بعد ان مریضوں کو افاقہ ہوتا ہے اور نشے کے بغیر وقفے زیادہ لمبے ہوکر سامنے آنے لگتے ہیں۔ اگروہ منشیات کا استعمال دوبارہ شروع کر بھی دیتے توان کے ریلیپس کا عرصہ مختصر ہوتا اور ریلیپس کے برے نتائج نسبتاً کم ہوتے اور وہ دوبارہ علاج میں آنے کے خواہش مند نظر آتے۔ ہم امید اور گرم جوشی محسوس کرنے لگے۔

1991 ء میں امریکہ کے سفیر مسٹر نکولس پلاٹ کی خصوصی دعوت پر مجھے امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے کا موقع ملا جس میں میرا نشے کی بیماری کی بہترین علاج گاہوں میں ٹریننگ اور قیام بھی شامل تھا۔ بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملا۔ امریکہ میں گلی گلی روزانہ این اے میٹنگ کے نام پر ان مریضوں کے اجتماع ہوتے ہیں جو نشے سے بحالی پا چکے ہوتے ہیں۔ این اے میٹنگ اوراین اے پروگرام نشے سے بحالی کے خاص اجزا ہیں۔ اس دورے نے میری پیشہ ورانہ زندگی پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ جہاں ملکی ماہرین نفسیات مجھے گھاس نہیں ڈال رہے تھے وہاں اس طرح کی بین الاقوامی پذیرائی سے صداقت کلینک کے معیاری علاج گاہ بننے کی راہ ہموار ہوگئی۔ اسی سال مجھے امریکہ کی بین الاقوامی شہرت کی حامل علاج گاہ ’’ہیزلڈن‘‘ میں ٹریننگ کا موقع ملا۔ اس ٹریننگ نے مجھے صحیح معنوں میں نشے کے مریضوں کی خدمت کے قابل بنایا۔

مجھے اور میری وننگ ٹیم کو امید ہے کہ یہاں دی گئی معلومات آپ کو ان ہزاروں مریضوں کے تجربات سے روشناس کرائیں گی جنہوں نے براہ راست یا بلاواسطہ اس طریقہ علاج کی تعمیر میں حصہ لیا ہے۔ یہ آپ تک اپنا تجربہ اور امید پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ ہم آپ کے ہمراہ ایک مہم جوئی کا آغاز کررہے ہیں، ایک ایسی مہم جوئی جو آپ کو ریلیپس سے بچاؤ کے علم سے متعارف کرائے گا۔ اس علم کو جاننے اور جمع کرنے میں ہمیں 37 برس لگے۔ یہاں ایسی اہم معلومات ہیں جو زندگی اور موت کے درمیان فرق کا باعث بنتی ہیں اور ایک واضح لکیر کھینچ دیتی ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیئے:-

comments