ہسپتال، تھانے اور عدالتیں روزانہ یہ منظر نامہ پیش کرتی ہیں کہ والدین نشے کے عادی بچوں کے پیچھے خوار پھرتے ہیں۔ وہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہوتے ہیں اور اولاد کیلئے اپنی دولت، شہرت حتیٰ کہ عزت تک داؤ پر لگا دیتے ہیں اور وہ بھی ایسی اولاد کے لیے جو نہ صرف نشہ، جرائم اور بدتمیزی پر شرمندہ تک نہیں ہوتی بلکہ کچھ نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنے والدین سے شدید نفرت کا اظہار بھی کرتی ہے۔

عموماً والدین خود سے ہی یہ تصور کر لیتے ہیں کہ وہ اولاد کو جنم دے کر کوئی جرم کر بیٹھے ہیں اور اس کی سزا بھگتنا ان کی ہمیشہ کی ذمہ داری ہے۔ وہ ایک ایسی یک طرفہ محبت کا روگ پال لیتے ہیں جو انہیں یا ان کی اولاد کو خوشحالی نہیں دے سکتی۔ اگر آپ کو کسی تھانے، جیل یا علاج گاہ میں جانے کا اتفاق ہو تو آپ کو حیرت ہوگی کہ نشے کے مریض وہاں خوش و خرم اپنے کارناموں پر فخر کرتے اور پکنک کے انداز میں وقت گزارتے ہیں۔ ان کے والدین کو دیکھیں تو رو رو کر اُن کی آنکھوں کا پانی خشک ہو چکا ہوتا ہے، وہ اپنی جمع پونجی ان نوجوانوں پر لُٹا چکے ہوتے ہیں۔ ان نوجوانوں کو قطعاً یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ والدین اور معاشرے کے لیے سوہانِ روح بن چکے ہیں۔

* ایک جمعہ کی صبح راشد کی والدہ پریشان ہے کیونکہ آج راشد کے چہرے پر پھر وہی ناگوار تاثرات ہیں۔ وہ حواس باختگی میں اپنی چیزیں اکٹھی کر رہا ہے اور کسی سے بات چیت تک نہیں کر رہا۔ اس کی ماں جانتی ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔ انیس سالہ راشد گھر سے غائب ہونے کی تیاری کر رہا ہے، تھوڑی دیر میں وہ چپکے سے نکل جائے گا اور پھر دو تین ہفتے کے لیے کچھ پتا نہیں ہو گا کہ وہ کہاں ہے؟ اس کے جانے کے بعد ہی پتا چل سکے گا کہ گھر کی کون کون سی چیزیں اب موجود نہیں ہیں۔ ماں پریشانی کے عالم میں خوفزدہ نظروں سے فضا میں دیکھ رہی ہے، وہاں بھی پریشانی کے علاوہ اس کے لیے کچھ نہیں کیونکہ جب سے اس کا بیٹا چرس کا عادی ہوا ہے بغاوت اس کی رگ رگ میں سرایت کر چکی ہے۔

* اِدھر گوجرانوالہ میں 60 سالہ الٰہ دین صبح گیارہ بجے اپنے بیٹے کو جگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ’’توصیف! توصیف جاگو!! تم نے انٹرویو کیلئے جانا ہے۔ وقت جا رہا ہے‘‘ توصیف باپ کا ہاتھ جھٹکتا ہے اور غصے سے آگ بگولہ ہو کر بستر سے کود کر اٹھتا ہے اور چیختا ہوا کھڑکی کے شیشے توڑ دیتا ہے، اس کے ہاتھوں سے خون بہہ رہا ہے اور وہ کہتا ہے، ’’بڈھے تم میری جان کیوں نہیں چھوڑتے؟ میں نے نہیں کرنی کوئی نوکری ووکری، مجھے کوئی خیرات نہیں چاہئیے، تم نے میری زندگی خراب کردی ہے۔ دفع ہو جاؤ میرے کمرے سے، تمہاری ماں کو۔۔۔‘‘ الٰہ دین مایوسی کے عالم میں کمرے سے نکل کر باورچی خانے میں اپنی بیوی سے ملتا ہے اور بتاتا ہے کہ توصیف آج پھر ’’اپ سیٹ‘‘ ہے اور ہاتھاپائی پر اترا ہوا ہے۔ مایوسی کے انداز میں بیوی کی طرف دیکھتا ہے اور کہتا ہے ،’’ میرا دل چاہتا ہے کہ اس گھر سے کہیں دور بھاگ جاؤں۔‘‘ اُس کی بیوی کہتی ہے، ’’ دِل تو میرا بھی یہی چاہتا ہے لیکن بیٹے کی محبت کے ہاتھوں مجبور ہوں۔‘‘

کچھ ہی دیر بعد توصیف تیار ہو کر ہاتھ پر پٹی باندھے، سپاٹ چہرہ لیے کہتا ہے، ’’دو سو روپے دیں میں انٹرویو کے لیے جا رہا ہوں۔‘‘ اس کا باپ خوشی سے کھل اٹھتا ہے اور جیب سے پانچ سو کا نوٹ نکال کر کہتا ہے، ’’یہ رکھ لو بیٹا انٹرویو کے بعد کچھ کھا لینا۔‘‘ اس کے جانے کے بعد دونوں میاں بیوی امید بھری نظروں سے دیر تک اس راہ کو تکتے رہے جس پر ان کا لاڈلا انٹرویو دینے گیا تھا۔ صدافسوس! وہ اپنے معصوم خیالوں کے اُس پار توصیف کو نشہ کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے۔