جب بچے رات گئے گھر لوٹنا شروع کر دیں تو یہ والدین کیلئے لمحہ فکریہ ہوتا ہے۔ آپ کو فکر ہوتی ہے کہ آیا آپ کے بچے اپنی نوجوانی اور آزادی کو سنبھال بھی پائیں گے یا نہیں؟ آپ ان کی گھر واپسی کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ جب وہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں تو آپ مطمئن ہو جاتے ہیں اور ان کی قوت فیصلہ پر بھی اعتماد کرنا شروع کر دیتے ہیں لیکن ان کا کوئی ایک جھوٹ یا غیر ذمہ دارانہ رویہ آپ کے اعتماد کو اچانک چکنا چور کر دیتا ہے جسے بحال ہونے میں خاصا وقت لگتا ہے۔اگر بچے اس بات کی پرواہ نہ کریں کہ ان کے والدین کا اعتماد بحال ہوتا ہے یا نہیں توپھر گھر میں لڑائی جھگڑے کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔

بچوں کے روئیے
ماں باپ کو متاثر کرتے ہیں
اور ماں باپ کے روئیے
بچوں کو متاثر کرتے ہیں!

یہ کا چھٹا عقیدہ ہے۔ ویسے تو یہ عام سی بات نظر آتی ہے اور ذہن اسے قبول بھی کرتا ہے لیکن گھر میں جب والدین یا اولاد کے روئیے ایک دوسرے کو بری طرح متاثر کریں تو اس پر بہت زیادہ شور برپا کیا جاتا ہے اور اسے معمول کے مطابق نہیں سمجھا جاتا۔ قریب پڑے ہوئے برتن بھی آپس میں ٹکرا جاتے ہیں۔ تنازعے کی صورت میں آگ بگولا ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، ایسے موقوں پر قطع تعلقی کا الٹی میٹم بھی بیکار شغل ہے۔ غصے میں آپ ایک دوسرے کو چھوڑ دینے کی دھمکی دیتے ہیں لیکن اس دھمکی پر عمل کرنا آپ کے بس میں نہیں ہوتا۔ آپ اپنے دوستوں سے مستقل دور رہ سکتے ہیں، ملازموں کو بدل سکتے ہیں، محلے دار پسند نہ ہوں تو نقل مکانی کر سکتے ہیں لیکن اپنے والدین یا بچوں کے ساتھ کسی معقول مدت کیلئے آپ تعلق نہیں توڑ سکتے۔ جلد یا بدیر آپ کا غصہ ٹھنڈا ہو ہی جاتا ہے اور آپ کی محبت جوش مارنے لگتی ہے۔بالفرض آپ تعلق توڑ بھی دیں تو آپ کے زخم کبھی نہیں بھرتے، آپ دکھتے رہتے ہیں کیونکہ یہ آپ کے بنائے ہوئے رشتے نہیں ہیں۔

یہ آپ کی ناف کے بوجھل رشتے ہیں!

ہر گھرانے میں جہاں نشے کی بیماری لوگوں کو ستاتی ہے سبھی باقاعدگی سے ایک دوسرے کو قطع تعلقی کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ آپ کو نہیں معلوم لیکن خدا نے آپ سب کے درمیان تعلق اپنی خاص مصلحت کے تحت ترتیب دیئے ہیں اور اگر آپ ان میں قطع و برید کریں گے تو کبھی سکھ نہیں پائیں گے۔

باسی کڑی میں ابالے آتے رہتے ہیں!

کسی موضوع پر تبادلہ خیالات ایک اور بات ہے جبکہ عملی طور پر کسی اذیت سے دوچار ہونا ذرا مشکل کام ہے۔ جب والدین کو خبر ملتی ہے کہ ان کا بچہ نشے کی بیمار ی میں مبتلا ہو گیا ہے تو ان کا پہلا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ …… یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4