عام طور پر جو والدین کسی نوجوان کے نشے کی بیماری کیلئے ماہرین کی مدد حاصل کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ماہرین تنہا ہی اس مسئلے کو حل کر لیں گے۔ یہ ایک شدید غلط فہمی ہے، جس میں والدین خاص طور پر نقصان اٹھاتے ہیں۔ نشے کی بیماری کا علاج اگرچہ ہسپتال میں ہوتا ہے اور ماہرین منشیات، کونسلنگ مہیا کرتے ہیں تاہم مریض نے آخر کار گھر ہی واپس آنا ہوتا ہے، لہذا امکان ہے کہ گھر میں اس کا انٹریکشن اور معاشرے میں نشے کی حامی قوتیں ماہرین منشیات کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیں۔ یہی وجہ ہے کہ علاج کے دوران والدین کی ٹریننگ اور علاج کے بعد این اے میں مریض کی شمولیت بہت اہمیت کی حامل ہے۔

اگر نشے کے مسئلے کو صرف ماہرین منشیات کی مدد سے حل کرنے کی کوشش کی جائے تو عموماً الجھ جاتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کیلئے والدین کا تکنیکی مہارت اور اچھے ساتھیوں کا تعاون حاصل کرنا ضروری ہے۔ نفسیاتی طریقہ ہائے کار یہ تقاضا کرتے ہیں کہ فریقین (والدین اور بچے) کھلے دل و دماغ اور باہمی تعاون کا مظاہرہ کریں اور تبادلہ خیالات جاری رکھیں۔ لیکن جو نوجوان اپنے نشیلے اور استحصالی رویوں سے اہل خاندان کا جینا حرام کر دیتے ہیں ان کے اندر نشے کی چارد میں لپٹے ہونے کے باعث حقیقت شناسی کی کوئی رمق باقی نہیں ہوتی، جس سے یہ امید وابستہ کی جا سکے کہ وہ کس صورت میں مصالحانہ رویہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے نشے سے نجات کیلئے اسے پیشہ ورانہ مدد کی جانی چاہئے۔ ایسی صورت میں جبکہ والدین ایک صحیح سٹینڈ پر ڈٹ جانے کی اہلیت نہ رکھتے ہوں علاج منشات میں حاصل کی گئی پیشہ ورانہ مدد بھی بیکار جاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ پیشہ ورانہ مدد سے پہلے اور اس تمام عرصے کے دوران آپ ایک صحیح سٹینڈ بنانے اور اس پر ڈٹ جانے کی اہلیت حاصل کر لیں۔ کا ساتواں عقیدہ کہتا ہے کہ
جب ہم کسی سٹینڈ پر ڈٹ جائیں
تو اس سے بحران پیدا ہوتا ہے!

کا یہ عقیدہ عمل کیلئے پیش رفت کا اشارہ دیتا ہے۔ ایک پایسی مرتب کرنے اور پھر اس سے انحراف نہ کرنے کی وجہ سے ہی کا سکہ چلتا ہے۔ یہ گو کہ مشکل اور نیا خیال ہے لیکن یہی وہ حقیقت ہے، جس کا لوگ افسانہ بنا لیتے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ ہم تو پہلے ہی بحرانوں میں گھرے ہوئے ہیں، اگر ہم کسی سٹینڈ پر ڈٹ جائیں تو اس سے نت نئے بحران پیدا ہوں گے، جب کہ ہمیں بحران پیدا کرنے کی نہیں بلکہ بحران سے نجات کی ضرورت ہے۔ یہاں والدین یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ آپ کے سٹینڈ پر ڈٹ جانے سے پیدا ہونے والے بحرانوں اور نشئی نوجوانوں کے ہاتھوں پیدا ہونے والے بحرانوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ جب آپ سٹینڈ پر ڈٹ جاتے ہیں تو آپ کو پہلے سے پتہ ہوتا ہے کہ اس سے بحران پیدا ہو گا لہذا اس وقت آپ حفظ ماتقدم کے طور پر کچھ انتظامات کرتے ہیں جب کہ نشئی نوجوانوں کے ہاتھوں پیدا ہونے والے بحران آپ کو اچانک آ گھیرتے ہیں نتیجتاً آپ کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں پس جب آپ خود بحران ترتیب دیتے ہیں تو کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے اور مثبت تبدیلی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ آپ جانتے ہیں، قسمت بھی اس کا ساتھ دیتی ہے جو پہلے سے تیاری کرتا ہے۔

کی تجویز ہے کہ اگر آپ غصے میں ہوں تو بہتر ہے کہ خاموش رہیں اور غصہ ٹھنڈے ہونے کا انتظار کریں۔ کسی بے قابو نوجوان کے ساتھ آمنا سامنا ہو تو، پہلے تولیں اور پھر بولیں، کوئی بھی بات سوچ سمجھ کر اپنے منہ سے نکالیں لیکن جب آپ ایک دفعہ کچھ کہہ دیں تو پھر اس پر سٹینڈ ضرور لیں۔