بحران، خطرے اور مواقع دونوں کی ممکنہ صورت حال کی نشاندی کرتے ہیں۔ جب آپ کو اولاد کے نشہ کی بیماری کو سنبھالنے کیلئے بحران پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو آپ انجانے خطروں سے اس حد تک ڈرتے رہتے ہیں کہ خاموشی سے وقت گزارنے کی پالیسی پر عمل کرتے ہیں۔

بحران میں مواقع کے پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

زیادہ تر والدین جب سے متعارف ہوتے ہیں تو وہ خطرہ کے پہلو کو بہت زیادہ اجاگر کرتے ہیں۔ ان خطرات مین سے کچھ سچ پر مبنی بھی ہوتے ہین لیکن جب تک والدین خطرات پر ہی نظر گاڑے رکھیں گے اور غم و غصہ میں مفلوج ہی رہیں گے تو مثبت تبدیلی کیسے آئے گی۔ کسی بھی کام میں کامیابی کیلئے کچھ نہ کچھ خطرہ تو مول لینا ہی پڑتا ہے۔ ترتیب دئیے گئے بحرانوں کے پیچھے پیچھے دبے پاؤں مثبت تبدیلی آتی ہے تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ آپ میں بحران کو ترتیب دینے کے ساتھ ساتھ آخر میں اسے سمیٹنے کی اہلیت بھی ہو، ظاہر ہے یہ اہلیت آپ کو اپنی ذات میں بحران پیدا کرنے سے پہلے پیدا کرنی پڑے گی۔
کے بارہ عقیدوں میں سے آٹھواں عقیدہ یہ ہے کہ
بحرانوں کو خود پیدا کرنے اور سمیٹنے سے ہی
مثبت تبدیلی آتی ہے!

خوف کے باعث جب آپ کوئی قدم اٹھانے سے گریز کرتے ہیں اور حالات کو جوں کا توں برداشت کرلیتے ہیں تو نشے کا مریض بچہ گھر کو سرکس کا میدان سمجھنے لگتا ہے اور خطرناک کرتب دکھانے میں مگن ہو جاتا ہے اورآپ اس کی ہر حرکت کو پھٹی پھٹی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہاتھ ملتے رہتے ہیں۔ آپ صاف دیکھتے ہیں کہ وہ تباہی کی راہوں پر تیزی سے گامزن ہے لیکن کوئی قدم اُٹھا کر آپ اپنے سر کوئی الزام لینا نہیں چاہتے کیونکہ آپ جب بھی کوئی سٹینڈ اختیار کر کے اس پر ڈٹ جاتے ہیں تو نشئی نوجوان بحران پیدا کر دیتا ہے۔ ارد گرد کے لوگ اس بحران کی ذمہ داری آپ کی ذات پر ڈالتے ہیں کیونکہ بحران آپ کے سٹینڈ پر ڈٹ جانے کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ لہذا یہاں پر آ کر آپ ان الزاموں سے تنگ آ جاتے ہیں اور خاموشی اور چشم پوشی میں ہی عافیت تلاش کرتے ہیں۔ لاشعوری طور پر آپ اس کی زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو کسی بھی المیے کیلئے تیار کر لیتے ہیں۔

کے مقابلے میں اسے سقوط محبت کا نام دیا جا سکتا ہے!

قطع نظر اس بات کے کہ وہ فی الحال راضی ہے یا نہیں، سقوط محبت سے کہیں بہتر ہے کہ آپ سے اس کی لگامیں اپنے ہاتھ میں لیں اور اسے وہ مدد فراہم کریں جس کی اسے ضرورت ہے، جہاں مسئلہ زندگی اور موت کا ہو وہاں آپ اسے کوئی چوائس کیسے دے سکتے ہیں۔ کتنے ہی موقعوں پر جب اولاد کو چوائس دینا ضروری ہوتا ہے آپ اسے انکار کر دیتے ہیں اور جب وہ اپنے آپ کو آہستہ آہستہ ختم کر رہا ہوتا ہے تو آپ خاموش کھڑے دیکھتے ہیں۔
کیا کوئی خود کشی کر رہا ہو تو آپ خاموشی سے دیکھا کرتے ہیں؟
کیا خود کشی کیلئے کوئی حد رفتار مقرر ہے؟

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4