جب آپ کے نشئی بچے جرم کرتے ہیں، پھر گرفتار ہوتے اور مدد کیلئے پکارتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ ان کے والدین کسی نہ کسی طرح ان کو بچا لیں۔ کا تقاضا یہ نہیں کہ جرم کرنے والوں کی مدد کی جائے چاہے وہ ہمارے اپنے خون کے رشتے ہی کیوں نہ ہوں۔اگر آج آپ ان کے ایسے جرائم کو اہمیت نہیں دیں گے جو وہ معاشرے کے دوسرے افراد کے خلاف کرتے ہیں تو کل جب وہ آپ کی جان کو آئیں گے تب آپ کیا کریں گے، آپ ان کی زور و زبردستی کے خلاف بند نہیں باندھ سکیں گے۔

کے زیراثر والدین مریضوں کی صرف نشے سے نجات میں مدد کرتے ہیں۔ چونکہ نشے نے مریض کی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے اس لئے وہ واضح طور پر دیکھ نہیں پاتا کہ وہ اپنے اور دوسروں کیلئے کس قدر باعث تکلیف ہے۔ اسے اپنی بیماری کی شدت کا بھی اندازہ نہیں ہوتا۔ اس کے اپنے غلط طرز عمل کے نتیجے میں جب وہ کسی مصیبت میں پھنستا ہے تو آپ اسے بچانے کیلئے دوڑتے ہیں، یوں اگر قدرت کی طرف سے اس کو ہوش دلانے کیلئے کوئی سبب پیدا ہوتا ہے تو آپ اپنی ’’ہمدردی‘‘ کے ذریعے اسے تھپک تھپک کر دوبارہ گہری نیند سلا دیتے ہیں۔ یہ کیسی ہمدردی ہے جو آپ کے نشے کے مریض کو کھلم کھلا پیغام دیتی ہے کہ تم جو چاہو کرتے رہو، آپ سزا سے بچاتے رہیں گے ۔ جب کہ آپ کے اس روئیے میں ایک چھپا ہوا پیغام یہ بھی ہے کہ تم جو نشے کرتے ہو ہمیں اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ۔

کے ذریعے کسی نشئی نوجوان کو زندگی کی شاہراہ پر واپس لانا ایک مشکل بات ہے لیکن اسی مشکل بات پر آپ کے بچے کی واپسی کا دارومدار ہے۔ اگر آپ اس کی زندگی میں آنے والے بحرانوں سے ایسے نمٹتے رہے کہ اسے کبھی تتی ہوا بھی نہ لگے تو اسے کبھی پتا ہی نہیں چلے گا کہ وہ اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہے لہذا وہ سنجیدگی سے نشے سے نجات کے بارے میں کبھی نہیں سوچے گا۔ پھر آپ اسے نشے سے دور رکھنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کریں آپ کامیاب نہیں ہونگے۔ جب تک کہ خود اس کو نشے سے نجات کی فکر نہ ہو، تنہا آپ اس کے اور نشے کے درمیان کوئی معقول رکاوٹ کھڑی نہ کر سکیں گے۔
دو ٹانگوں والی چیزوں کی نگرانی ناممکن ہے!

ایسے موقعوں پر جب والدین اپنے نشئی بچوں کے جرائم میں پشت پناہی سے انکار کر دیتے ہیں تو یہ ان کیلئے ایک ڈراؤنا خواب ہوتا ہے۔ غم و غصہ اور حواس باختگی میں انہیں یقین نہیں آتا کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ حقیقت ہے یا خواب۔ میں والدین خاص طور پر ان بچوں کی بالو واسطہ مدد کرتے ہیں جو اپنے طرز عمل کو بدلنے پر دلی طور پر آمادہ نہیں ہوتے۔

جب قانون آپ کے دروازے پر دستک دیتا ہے، ایسے میں آپ چین کی نیند نہیں سو سکتے۔ آپ کی خاموش سسکیاں، درد بھری ٹھنڈی آہیں اور آپ کا تڑپنا کوئی دیکھ نہیں پاتا۔ کیونکہ آپ یہ سب کچھ اپنے آپ سے بھی چھپا کر کرتے ہیں۔ میں آپ کے دوست ایسے مواقع پر سہارا دیتے ہیں اور آپ کے بگڑے ہوئے معاملات کو غیر جذباتی انداز میں سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کا غم و فکر اگر سنبھالا نہ جائے تو آپ کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔ کتنے عجیب و غریب حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ آپ کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ اپنی فکر کریں یا بچوں کی، نتیجتاً آپ کچھ بھی کر نہیں پاتے۔ جائے ماندن نہ پائے رفتن کے مصداق آپ تذبذب کا شکار رہتے ہیں، ایسے حالات میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟
بہت کچھ! کیونکہ کچھ دن باقی دنوں سے اچھے ہوتے ہیں!