میں دسواں عقیدہ یہ ہے کہ
گھریلو سکون کا انحصار
باہمی تعاون پر ہے
جذبات کے اتار چڑھاؤ پر نہیں!
تعاون سے مراد یہ ہے کہ مل جل کر اس انداز سے ایک دوسرے کے ساتھ رہیں کہ نہ تو آپ کی وجہ سے کسی کی دل آزاری ہو اور نہ ہی آپ دوسروں کیلئے مشکلات پیدا کریں۔ بالکل اسی طرح آپ کسی کو بھی یہ اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کے سکون کو رشتوں ناتوں کی آڑ میں درہم برہم کرے۔ جب آپ ایک دوسرے کو کسی رشتے کی نظر سے دیکھتے ہیں توآپ دو طرفہ ضرورت کو پورا کرتے ہیں جو کسی رشتے میں محبت کے پہلو سے اجاگر ہوتی ہے۔ جب آپ گھر میں کسی کو محبت کرنے کی ’’چیز‘‘ سمجھتے ہیں تو یہ محض اتنی بات ہوتی ہے کہ گھر میں ان کی موجودگی آپ کی ایک ضرورت کو پورا کر رہی ہوتی ہے۔ جب کسی کو یہ احساس ہوتا ہے کہ محض اس کا وجود ہی آپ کی ضرورت ہے تو وہ آپ کی اس کمزوری کا ناجائز فائدہ بھی اُٹھا سکتا ہے اور اگر چاہے تو اس احساس کے زیراثر آپ سے بڑھ چڑھ کر تعاون بھی کر سکتا ہے۔

بچوں سے غیر مشووط محبت اسی وقت تک مناسب رہتی ہے جب تک کہ وہ بچے رہتے ہیں۔ جب بچے بالغ ہو جاتے ہیں تو غیر مشروط محبت کو کسی زیادہ معقول چیز سے بدل دینا ضروری ہو جاتا ہے، ہماری نظر میں اس کا بہت خوبصورت اور مناسب نعم البدل ہے۔ محبت کا بچگانہ تصور اسی وقت تک کارآمد رہتا ہے جب تک بچے مکمل طور پر آپ کے دستِ نگر اور محتاج ہوتے ہیں۔ جب وہ نشو و نما پا کر بالغ ہو جائیں تو ان کے ساتھ تال میل کیلئے بالغ نظری ضروری ہو جاتی ہے اور بالغ نظری کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ معقول روئیے اپنانا شروع کر دیں۔ نوجوانوں پر غیر مشروط مہربانیاں تباہ کن ہوتی ہیں کیونکہ یہ انہیں ایک خوبصورت کھلونا ہونے کا احساس دیتی ہے۔ نشے کی بیماری میں جب وہ آپ کی توقعات کے برعکس اپنے آپ میں مگن خیالی پلاؤ پکا رہے ہوتے ہیں تو ان کے منصوبے آپ کو بہت احمقانہ نظر آتے ہیں لیکن خود ان کی نظر میں اپنی آراء بہت بیش قیمت ہوتی ہے۔ وہ اپنے بارے میں بہت خوش فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں حالانکہ انہوں نے کبھی اپنی صلاحیتوں کو ثابت نہیں کیا ہوتا لیکن پھر بھی وہ تقاضا کرتے ہیں کہ انہیں بہت خاص مقام دیا جائے۔

نشے کی بیماری میں محبت کی بجائے تعاون کا رویہ اس نظریہ پر ہے کہ آپ اپنے بچے کو بہترین علاج مہیا کریں اور بچے دل و جان سے آگے بڑھ کر اس علاج سے فائدہ اُٹھائیں اور یہ نہ سمجھیں کہ وہ علاج کروا کر والدین پر احسان کر رہے ہیں۔
ایسے میں چند باتیں بہت ضروری ہیں اور وہ یہ کہ:
* آپ اپنے طور پر خوش رہنے کا فوری فیصلہ کر لیں اور اس کیلئے مریض کے نشہ چھوڑنے کی شرط عائد نہ کریں۔
* تکنیکی مہارت پانے کیلئے آمادہ ہو جائیں اور اس چیز کو دل سے تسلیم کر لیں کہ حالات خود بخود بہتر نہیں ہوں گے۔
* ایک دوسرے کو کوستے رہنا بے بسی کی علامت ہے۔ نشئی نوجوانوں کو کسی صورت اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کے جذبات سے کھیلیں، ان کے ساتھ طیش کی باری لینے سے رُک جائیں، آپ کے ایسا کرنے سے اس تکلیف دہ کھیل میں تعطل آ جائے گا۔

آپ کو نوجوانوں سے تسلیم کروانا چاہئے کہ آپ ان کے ہمدرد راہنما ہیں۔ اگر آپ آج اور ابھی معاشرے میں پھیلی ہوئی سوچ کا تجزیہ کریں تو یہ پتا چلے گا کہ آپ خود بھی بچوں کو اس خوش فہمی میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ وہ کوئی بہت خاص چیز ہیں جب کہ آپ کی حیثیت ان کے مقابلے میں کچھ خاص نہیں۔