نشے کی بیماری ایک روگ ہے کہ جس کی آمد کے ساتھ ہی گھر بھر کی خوشیاں تو جیسے روٹھ ہی جاتی ہیں۔ والدین پر اچانک یہ بجلی گرتی ہے کہ ان کا ایک بچہ نشہ کرتا ہے۔ انہیں یہ موقع ہی نہیں ملتا کہ وہ کوئی پیش قدمی کر سکیں۔ نشہ کی بیماری پر ہونے والی تحقیق سے ابھی تک نشہ کرنے کی ساری وجوہات کا پتا نہیں چلایا جا سکا۔ قیاس ہے کہ کچھ لوگوں میں نشے کا رحجان پیدائشی طور پر ہوتا ہے اور اگر انہیں اتفاق سے کبھی نشے کا تجربہ ہوجائے تو وہ نشے کے عادی ہو جاتے ہیں اور پھر نشے کے اکثر بیمار اپنی اس علت کو کافی عرصہ تک چھپانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جب اہل خانہ کو مریض کے نشے کا علم ہوتا ہے اس وقت تک پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہوتا ہے۔ نشہ کرنے والوں میں سے کچھ لوگوں کو نشے کی بیماری ہو جاتی ہے۔

جب ہم والدین کو خوش رہنے کیلئے کہتے ہیں تو انہیں ہماری یہ بات سمجھ نہیں آتی، کسی نشے کے مریض کے ساتھ ایک ہی چھت تلے رہنا بھیانک سپنے کی طرح ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ بیماری ایک کو لگتی ہے لیکن پورا گھرانہ متاثر ہوتا ہے۔ کہنے میں یہ بات تلخ نہیں لگتی لیکن عملی طور پر یہ تجربہ بہت تلخ اور ہولناک ہوتا ہے۔ یہ موذی مرض نشے کے مریض کو جسمانی، نفسیاتی، معاشرتی اور روحانی طور پر برباد کر دیتا ہے۔ اس بربادی کا عکس آئینے کی طرح والدین کی آنکھوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ویسے تو ہر بیماری میں والدین کی ’’سانجھ‘‘ ہوتی ہے لیکن نشے کی بیماری میں اہل خانہ کی تکلیف کسی طرح بھی مریض سے کم نہیں ہوتی۔ اہل خانہ میں سے چند افراد اس بری طرح سے متاثر ہوتے ہیں کہ انہیں باقاعدہ مریض سے ہٹ کر الگ سے مکمل علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان افراد کو ’’ہم روگی‘‘ کہا جاتا ہے۔ نشے کی بیماری کے اصل شکار تو یہی لوگ ہوتے ہیں۔

جنگ اور محبت کی طرح نشے میں بھی مریض اپنی ہر حرکت کو جائز سمجھتا ہے نشے کی خاطر وہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیوں تک میں ملوث ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف صدمے سے اہل خانہ کا برا حال ہوتا ہے۔ وہ دنیا سے میل ملاپ چھوڑ دیتے ہیں۔ مریض انہیں مسلسل اپنی بیماری کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ مریض کی تکرار سے انہیں اپنے قصور وار ہونے کا شک ہونے لگتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم مریض کو نشے سے نہیں بچا سکے تو ہم ناکام لوگ ہیں۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ نشے کی بیماری کی حتمی ذمہ داری بالآخر مریض پر ہی عائد ہوتی ہے کیونکہ نشہ اس نے خود ہی شروع کیا تھا۔ آ پ نے کبھی ایسا کچھ کیا ہے جس کی وجہ سے وہ اس بیماری میں مبتلا ہوا ہو لیکن اگر آپ چاہیں تو اسے نشے سے نجات دلانے میں بھر پور کردار انجام دے سکتے ہیں۔

علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ نشے کے مریض کو خود فریبی ہے۔ یہ اتنی بڑی رکاوٹ ہے کہ بعض اوقات نشے کی بیماری کو خود فریبی کی بیماری بھی کہا جاتا ہے۔ یہ خود فریبی مریض کو اپنے اصل حالات پر نظر ڈالنے کی اجازت نہیں دیتی۔

ہلکی پھلکی خود فریبی ہر انسان میں پائی جاتی ہے لیکن نشے کے مریضوں میں یہ حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ نشہ مریض کی شخصیت کو مسخ کرتا ہے اور اس قدر قلابازیاں لگواتا ہے کہ وہ ہوش و خرد سے دور ایک ڈراؤنے خواب کی طرح نظر آنے لگتا ہے اور باوجود تباہی کے دہانے پر کھڑا ہونے کے اس کا اطمینان قابل دید ہوتا ہے۔ گویا روم جل رہا ہوتا ہے اور نیرو بیٹھا چین کی بانسری بجا رہا ہوتا ہے۔