عام والدین کیلئے یہ تصور کرنا مشکل ہوتا ہے کہ جب نشہ کوئی اور کرتا ہے تو اس کی بحالی میں کسی دوسرے کا کیا کردار ہو سکتا ہے؟ وہ سمجھتے ہیں کہ مریض کو لعنت ملامت اور زور زبردستی کے ذریعے نشے سے دور رکھنا ممکن ہو گا۔ اسی لئے سب سے پہلے وہ یہی طریقہ اختیار کرنا مناسب سمجھتے ہیں لیکن عموماً دیکھا گیا ہے کہ وہ کامیاب نہیں ہو پاتے۔

آپ کوایسی تجاویز دیتا ہے جو لاکھوں والدین کی آزمودہ ہیں۔ نشے کے مریض کی صحیح مدد کیلئے آپ کو معقول رویوں اور تکنیکی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔

کا بارہواں عقیدہ یہ ہے کہ
تکنیکی مہارت ہی
نشے کی بیماری سے
آپ کی بحالی و خوشحالی کو یقینی بناتی ہے!

آپ کو بتاتی ہے کہ جو شخص کل کی فکر کرتا ہے وہ اپنی توانائی برباد اور اپنے ذہن کو اذیتوں سے دوچار کرتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کل کو بھول جائیں، کل سے نپٹنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ آج کے کاموں کو پوری محنت سے سرانجام دیں۔

آپ کو اپنی سکت سے زیادہ بوجھ اُٹھانے اور ایک ہی وقت میں زیادہ کاموں میں اُلجھنے سے باز رکھتی ہے۔ آپ کو یہ بھی کہتی ہے کہ مریض کے نشے کی وجہ سے اپنی زندگی کو معطل نہ کریں۔ جس گھر میں نشے کی بیماری موجود ہوتی ہے، اس کے مکین اپنی موجودہ زندگی کو اہمیت نہیں دیتے، وہ مریض کے غم اور فکر میں اس قدر ڈوب جاتے ہیں کہ ان کی قوت فیصلہ ختم ہو جاتی ہے اور وہ کبھی بھی کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے۔ دیوانوں کی طرح محض دائرے میں چکر لگانے سے صرف اعصابی تکلیف ہی ملتی ہے۔ نشے کے معاملے میں کئی مرحلے ایسے آتے ہیں جب آپ کو ایک سٹینڈ قائم کر کے اس پر عمل کرنے کی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔

پریشانی کا تعلق اکثر واقعات کے حجم سے نہیں بلکہ آپ کے رد عمل سے ہوتا ہے۔ کئی دفعہ ہم لوگ بڑے بڑے حادثوں کا تو بڑی ہمت سے سامنا کرتے ہیں لیکن چھوٹے چھوٹے مسائل میں اُلجھ جاتے ہیں۔ ایسے میں آپ کو خودکو وقت دینا ہو گااور یہ سوچنا پڑے گا کہ:
* آپ کیا محسوس کر رہے ہیں؟
* آپ ایسا کیوں محسوس کر رہے ہیں؟
* اس خاص مسئلے میں آپ کیا کیا قدم اُٹھا سکتے ہیں؟
* آپ نے کون سا قدم اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے؟