عام طور پر آپ بچوں کے غلط رویوں کو یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ اس عمر میں بچے ایسی حرکتیں کرتے ہی رہتے ہیں، آہستہ آہستہ خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے یا پھر آپ کو یہ پختہ یقین ہوتا ہے کہ آپ کے بچے دوسروں کے بچوں کی طرح حد سے تجاوز نہیں کریں گے لیکن ایک دن اچانک آپ کو یہ بری خبر ملتی ہے کہ آپ کا بچہ نشہ کرتا ہے۔ پہلے تو آپ کو یقین نہیں آتا، آپ سوچنے لگتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ پھر آپ گھریلو ماحول میں اس کے نشے کی وجوہات ڈھونڈنے لگتے ہیں حالانکہ مریضوں کے نشیلے رویوں کی جڑیں گھر سے باہر ہوتی ہیں اور وہیں سے ان کی نشوو نما ہوتی ہے۔

اگر آپ ماضی پر ایک نظر ڈالیں گے تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ آپ کے نوجوان کے ساتھ یہ ’’حادثہ‘‘ اچانک نہیں ہوا۔ نشہ کرنے سے بہت پہلے آپ کا مریض سے ذہنی رابطہ ٹوٹ چکا تھا۔ گھر میں نشئی نوجوانوں کے انداز ہی نرالے ہوتے ہیں۔ کبھی تو آپ کے ساتھ وہ بات بھی کرنا پسند نہیں کرتے، کبھی کھسیانی ہنسی ہنستے رہتے ہیں لیکن آپ کے ساتھ تبادلہ خیالات سے کتراتے ہیں۔ حتیٰ کہ ذرا ذرا سی بات چھپاتے ہیں اور بلاوجہ منہ پھلائے پھرتے ہیں اور پھر کسی دن وہ اشارے کنائے میں بتادیتے ہیں کہ آپ انہیں سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے، اس لئے وہ آپ سے بات چیت کرنا پسند نہیں کرتے، اس کے ساتھ ساتھ وہ استحصالی حربہ بھی آزماتے ہیں۔ آپ کو وہ واقعات بھی یاد آتے ہیں جب ان بچوں کیلئے آپ کو کورٹ کچہری میں ذلیل و خوار ہونا پڑتا تھا لیکن گھر آتے ہی وہ اُلٹا آپ کی خبر لیتے تھے۔ راتوں کو وہ دیر سے آئیں تو آپ ان کیلئے خیر کی دعائیں کرتے تھے۔ گھر میں ایک دوسرے کو دھول دھپا کریں تو اس کی تکلیف بھی آپ کو سہنی پڑتی تھی۔ کبھی کبھی تو ان کی اذیتیں اتنی بڑھ جاتی تھیں کہ وہ گھر میں نہ ہوں تو آپ کو سکون محسوس ہوتا تھا۔ شروع میں آپ نے سوچا کہ کوئی خاص بات نہیں ہے، یہ محض جوانی کا غبار ہے۔ آپ نے سوچا کہ تمام نوجوان ہی ایسی اُلٹی سیدھی حرکتیں کرتے ہوں گے۔ آپ کے ساتھ انہیں بوریت محسوس ہوتی ہو گی کیونکہ اب آپ ’’سنجیدہ‘‘ عمر کو پہنچ رہے ہیں۔ آپ یہ بھی سوچتے تھے کہ انہیں اب آپ کی پہلے سے کم ضرورت ہے اور شاید آپ زبردستی ان پر اپنا آپ ٹھونس رہے ہیں لیکن جلد ہی آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ بچے آپ کو بے بس بنا رہے ہیں، آپ سے ملنے جلنے سے اجتناب کر رہے ہیں اور بعض حالتوں میں آپ کو سرے سے رد کر رہے ہیں۔ لیکن تب ہی ایک خیال آتا تھا کہ کہیں یہ آپ کا وہم تو نہیں؟ کیونکہ جب ماں باپ میں ایک کچھ پر سکون اور ایک بے سکون ہو تو ایسا خیال ایک قدرتی عمل ہے۔ کبھی یہ خیال بھی آتا ہے کہ کہیں آپ کی بے سکونی ہی مسئلے کی وجہ تو نہیں بن گئی۔ آپ نے مسئلے کی حقیقت کو کئی سالوں تک لوگوں سے چھپائے رکھا۔ حقیقت سے یہ مسلسل انکار ایک جھوٹ تھا۔

دراصل آپ بتا نہیں پاتے تھے کہ آپ پر کیا بیت رہی ہے۔ جھوٹ بول کر آپ اپنے آپ کو بدنامی سے بچا رہے تھے اور اس طرح آپ اپنی انا کی تسکین کر رہے تھے۔ پھر جب آپ کے دوست احباب کبھی کبھی اشارے کنائے میں آپ کو پوچھا کرتے تھے کہ کیا کچھ گڑبڑ ہے؟ تو آپ کسی نہ کسی طرح پردہ پوشی کر دیا کرتے تھے۔ آپ اس سب گڑبڑ کو اس لئے بھی چھپاتے تھے کہ آپ کو معلوم بھی نہیں تھا کہ اس کے علاوہ بھی کچھ کیا جا سکتا ہے۔ آپ اس امید پر جی رہے تھے کہ کوئی ایسی سہانی گھڑی آئے گی کہ آپ کے بچے اپنے آپ کو سنبھال لیں گے اور نشہ کی زندگی کو ترک کر کے اپنے رویوں کو بہتر بنا لیں گے۔ شاید یا یقیناًآپ کسی معجزے کے انتظار میں تھے۔
آپ اسی طرح اپنی بے بسی کے ساتھ چمٹے رہے!

میں آنے والے والدین کا سب سے بڑا مسئلہ بے بسی ہوتا ہے لیکن جب دوسرے والدین اپنی کامیابی کی کہانیاں سناتے ہیں تو اس بات پر یقین آنے لگتا ہے کہ نشے کی بیماری کا معقول حل موجود ہے۔
اس کے ساتھ ہی مایوسی کے بادل چھٹنے لگتے ہیں!

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4