کوئی موقع ایسا بھی آ جاتا ہے جب پروگرام کڑوا لگتا ہے۔ جب ہمارا 31 سالہ اکلوتا بیٹا نشہ کے علاج کیلئے کلینک میں داخل ہو اور عید کا موقع ہو تو پروگرام بہت کڑوا لگتا ہے کیونکہ کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اسے اس موقع پر نہ ملیں لیکن آپ کے اندر سے آواز اُٹھتی ہے کہ عید پر اسے تنہا چھوڑنا تو زیادتی ہو گی، وہ کتنی تنہائی میں جلے گا….یہ تو سزا ہو گی۔

لیکن پروگرام کہتا ہے کہ ایسے موقع پر اسے تنہا چھوڑنا ہی ہو گا۔ اس تکلیف دہ، جارح، غیرذمہ دار اور بیمار ذہنیت کے حامل نوجوان کو تنہائی میں جلنا ہی چاہئے۔ اس غیر ذمہ دار انسان کو جو بار بار کے علاج سے فائدہ نہیں اٹھاتا اگر جیل میں نہیں تو کلینک میں ضرور تنہائی برداشت کرنی چاہئے۔ جو قانون سے کھیلتا ہے اس کے کھیل کو روکناہی پڑے گا، جو نوکری نہیں ڈھونڈتا اور اگر نوکری ڈھونڈ کر دیں تو اپنی غصیلی طبیعت سے کھو دیتا ہے تو اس کے حقوق کی بات کیسے کی جا سکتی ہے؟ جو دماغی بیماری کے بہانے مسائل پیدا کرتا ہے، اس سے لاتعلقی برت کر یہ پیغام ضرور دینا چاہئے کہ تمہارے ان رویوں کو برداشت کرنے والا گھر پر کوئی نہیں ہے۔

ہم خود کو اس وقت مشکل صورتحال میں گھرا ہوا پاتے ہیں کہ جب ہمارے عزیز ہم سے وہ فرمائش کرتے ہیں جس کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا ان کی فرمائش کو پورا کرنا خود ان کیلئے نقصان دہ ہے۔ اس وقت آپ کی اس کیلئے محبت تقاضا کرتی ہے کہ آپ ذمہ دارانہ اور مدبرانہ فیصلہ کریں۔ یعنی وہ فیصلہ جس میں اس کی بھلائی پوشیدہ ہو نہ کہ اس کی خواہش۔

جب آپ اپنے نوجوان بچے کے ساتھ یہ بدلے ہوئے روئیے اپناتے ہیں تو پروگرام کڑوا ہو جاتا ہے۔ یہ محبت اس وقت بھی کڑوی ہو جاتی ہے جب دوسرے لوگ مریض میں کیڑے نکالتے ہیں اور آپ کو اس کا دفاع کرنے سے منع کرتی ہے۔

شروع شروع میں تو یہ نوجوان آپ کے بدلے ہوئے رویوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کا شوق پورا ہوتے ہی آپ پھر پہلے کی طرح ان کے دیوانے ہو جائیں گے لیکن کا ذائقہ چکھنے کے بعد آپ پہلے جیسے نہیں رہتے!

آپ کے رویوں کے تسلسل سے نوجوانوں کے خوابوں کا منظر نامہ بدلنے لگتا ہے، پھر انہیں بدلنا ہی پڑتا ہے۔ کتنے ہی سال آپ ایکسیڈنٹ، تاوان، جرمانے، کورٹ کچہری اور تھانے کے چکر برداشت کرتے رہے ہیں۔ پکڑ دھکڑ، بھاگ دوڑ، ہسپتالوں کی فیسیں اوردیگر اخراجات، آپ کیا کچھ نہیں کرتے رہے؟ زمانہ بدل گیا اور آپ کے اپنے ہاتھوں کے پالے ہوئے نہ بدلے۔ آخر کار آپ کو کا طرز عمل اپنانا پڑا، پھر اس کے بعد آپ نے ان کے جرائم پر پردے ڈالنا اور ضمانتیں کرانا چھوڑ دیں۔

ایسے میں کبھی کبھی آپ کو یہ خوف دامن گیر رہتا ہے کہ کہیں اسے کچھ ہو نہ جائے لیکن سابقہ رویوں کو اپنانے کیلئے یہ جواز کافی نہیں ہے کیونکہ آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ گزشتہ کئی سالوں تک انہی سوچوں کے سہارے آپ اس کو بچاتے رہے ہیں اور انہی سوچوں کے سہارے اس کے تباہ کن رویوں کی پرورش کرتے رہے ہیں۔ ہر بڑے واقعہ کے بعد سوچتے رہے ہیں کہ شاید وہ سدھر جائے لیکن یہ آپ کے خواب ہی رہے۔ اس کی خواہشیں بڑی سے بڑی ہوتی گئیں اور حرکتیں اخلاقی گراوٹ کا مسلسل شکار رہیں۔ آپ نے جو کچھ بھی کیا اس کا نتیجہ ہمیشہ ہی منفی رہا۔ اب جب کہ آپ نے اس کی بہتری کی خاطر کا طرز عمل اپنایا ہے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور آپ پہلے سے جانتے تھے کہ پروگرام کڑوا بھی ہوتا ہے لیکن یہ سوچ آپ کو قرار دے گی کہ اس کی تاثیر بہت میٹھی ہوتی ہے۔

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2